مکھی جیسے لوگ

ہمارے اطراف میں کئی طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ لمبے، ٹھگنے، گورے، سانولے وغیرہ وغیرہ۔ یہ 'کیٹگریز' عموماً وضع قطع کی وجہ سے بنائی جاتی ہیں۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ظاہر میں تندرست و توانا جسم، چمکتے اور گھنے بال، چوڑی پیشانی اور سینا رکھتے ہیں لیکن ان کا دل مکھی یا اس سے بھی چھوٹے ہیں۔ جس طرح مکھی تمام جسم کو چھوڑ کر صرف گندے زخم پر بیٹھتی ہے ویسے ہی یہ مکھی جیسے لوگ تمام تر اچھائیاں چھوڑ کر برائیاں گنواتے رہتے ہیں۔

ایسے لوگوں کو پہچاننا مشکل نہیں بلکہ ان کی عادات خود بتاتی ہیں۔ ان کا آپ جتنا بھی احترام کرلیں وہ آپ کی عزت نوازی میں کوئی نہ کوئی کیڑا ضرور نکال لیں گے۔ مثلاً آپ ان کو بنفس نفیس خوشنما کارڈ کے ساتھ ولیمے کی دعوت دیں تو انہیں آپ کی فضول خرچی نظر آئے گی۔ شادی کی تیاریوں سے متعلق آگاہ کریں تو اس میں بھی وہ آپ پر تنقید کرنے سے نہیں گھبرائیں گے۔ اس کے بعد بھی وہ آپ کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے تشریف لائیں گے اور خوب ڈٹ کر کھائیں گے لیکن ڈکار لینے سے پہلے تیسری کولڈ ڈرنک نہ ملنے کا شکوہ ضرور کریں گے۔

اب آپ سوچ سکتے ہیں کہ بھئی اس بلاگ کا مصنف بھی تو "مکھی جیسے لوگ" ہی میں شمار ہوتا ہے کہ بس برائیاں ہی بتائے جا رہا ہے تو جناب اس خیال کو غلط کرنے کے لیے میں آپ کو ان کی چند اچھائیاں بھی بتائے دیتا ہوں۔ یہ لوگ دماغ کے بہت تیز ہوتے ہیں۔ اگر آپ کے خلاف ہوجائیں تو ایسی ایسی سازشیں بنائیں گے کہ شیطان بھی ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا سوچے۔ ان سے ملاقات کا آغاز و اختتام بہت گرم جوشی سے ہوگا لیکن جب اور جہاں اصل گرم جوشی دکھانے کا وقت آیا وہاں یہ 'بردباری' کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ کا تماشہ بنتا دیکھتے رہیں گے اور پھر ہر ایک کے کان میں اس کی روداد بھن بھناتے رہیں گے۔

بہرحال، اگر آپ کو کبھی مکھی جیسے لوگ نظر آئیں اور ان سے بات چیت کا موقع ملے تو انہیں ضرور بتائیے گا کہ اس دنیا میں مکھی کی عمر صرف 15 سے 30 دن ہوتی ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کی عزت کریں، آپ سے محبت کریں، آپ سے بار بار ملنے کی خواہش کریں، آپ کا نام ادب و احترام سے لیں تو اس کے لیے آپ کو اپنا ذہن وسیع اور دل کشادہ کرنا ہوگا۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کیجیے

میں نے پہلے عنوان کو بغیر ھ کے پڑھا یعنی مکی جیسے لوگ تو سمجھا ان کی شامت ہے 🙂

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

@محمدزبیرمرزا: حوصلہ افزائی کا شکریہ زبیر بھائی۔ خوش رہیں!

@خاور کھوکھر: آپ شاید ٹھیک کہتے ہیں۔ یہ ایک کیفیت بھی ہوسکتی ہے جس پر کچھ قابو پالیتے ہیں اور کچھ اس کی رو میں بہہ جاتے ہیں۔ ایک نیا زاویہ دکھانے کا شکریہ

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

ہر بندے کے اندر ایک مکھی ہوتی ہے
جو کسی بھی وقت اوج کر کے آ سکتی ہے ۔
جو کہ مجھ میں بھی ہوسکتی ہے اور آپ میں بھی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوب لکھا !۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

بہت خُوب لکھا ہے جناب بلکہ زوردار لکھا ہے اور بڑی مہارت سے نقاب کشائی کی ہے ایسے لوگوں کی جوسماج میں تخریبی سوچ سے لوگوں کی عزت اور وقار کو مجروح کرتے ہیں ایسے لوگوں کی نشاندہی اور مذمت کرکے بہت اچھا کیا ہے - تحریر کی پسندگی کی بڑی وجہ سماجی موضوع ہے یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں - شاباش ایسے ہی لکھتے رہیں -

اس تبصرے کا جواب دیںجواب