سوشل میڈیا پر سیاسی نفرت انگیزی

حج کے دوران وادی منی میں تین شیطانوں کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ اس عمل کو رمی کہتے ہیں کہ جو 10، 11 اور 12 ذی الحجہ کو ادا کیا جاتا ہے۔ عازمین حج کی جانب سے شیطان کو ماری جانے والی کنکریوں کا حجم چنے کے برابر ہونا کافی ہے۔ لیکن چونکہ لفظ شیطان سے ہمیں شدید دائمی نفرت ہے اس لیے بعض لوگ رمی کے دوران شدید غصہ کی سی کیفیت میں بڑے پتھروں کے علاوہ جوتیوں اور چپلوں تک کے استعمال سے گریز نہیں کرتے۔ نیز زبان سے بھی وہ نہ صرف شیطان بلکہ اس کے رشتہ داروں کو بھی ایسے القابات سے نوازتے ہیں کہ الامان فی الحفیظ۔ اس طرح ایک قدرے آسان عمل مشکل ہوجاتا ہے اور حاجیوں کے لیے مشکل کھڑی ہوجاتی ہے۔ اب آپ اس کا فیصلہ خود ہی کرسکتے ہیں حج کے دوران اگر اپنے ہی مسلمان بھائی کے لیے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں تو بھلا یہ فرض اور اس کے لیے کی جانے والی محنت بارگاہ رب العزت میں کس طرح قبول ہوگی۔

شیطان کے لیے یہ جذباتی کیفیت و نفرت صرف دوران حج تک ہی محدود نہیں رہتی البتہ وہاں سے وطن واپس آتے ہی ہمارا قبلہ اور شیطان دونوں ہی تبدیل ہوجاتے ہیں۔ جس شیطان کو اذیت پہنچانے کی غرض سے کنکریاں ماریں گھر آکر اسی کے بہکاوے میں آجاتے ہیں۔ بالخصوص سیاسی صاحبان کے جو سیاست کو مذہب کا درجہ اور انتخابات کو جنگ مان کر اس میں ہر چیز کو جائز سمجھ بیٹھتے ہیں۔ انتخابات 2013ء جیسے قریب آرہے ہیں ویسے ہی سیاسی جیالوں میں بھی جوش بڑھتا جارہا ہے۔ اس کا مظاہرہ دیکھنے کے لیے آپ کو گھر سے باہر جانے کی قطعاً ضرورت نہیں بس ایک نظر سوشل میڈیا پر ڈال لیجیئے۔ فیس بک کی ہی مثال لے لیں کہ جہاں اکثر و بیشتر مختلف سیاسی و نظریاتی کے حامل افراد کی طرف سے اظہار نفرت اور مفروضوں کی بنیاد پر برا بھلا کہنے کا نا ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

بعض لوگ اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ وہ جس چیز پر دوسروں کو نشانہ بنا رہے ہیں بذات خود اسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی کو زبان درازی پر لتاڑ رہے ہیں تو تنقید کے لیے اس  قسم کے نازیبا الفاظ استعمال کریں گے کہ جو گلی کے نکڑ پر کھڑے اوباش لڑکوں یا عوامی بیت الخلا کی دیواروں پر لکھے ہوتے ہیں۔ گویا کہ فیس بک وال نہ ہوئی کسی پبلک ٹوائلٹ کی دیوار ہوگئی۔ یا پھر کسی کو شدت پسندی کا طعنہ دیتے ہوئے خود بھی انتہا پسندی کی حدوں کو چھونے لگتے ہیں۔

اس کام کے لیے تصاویر کا سہارا لینا بہت عام بات بن گئی کہ جسے لوگ آسانی سے شیئر کر کے نفرت انگیزی کو مزید شہہ دے سکیں۔ آپ "آئی ہیٹ فلاں" یا "ماسٹر آف یوٹرن" جیسے صفحات ملاحظہ کرلیں کہ جن کا مقصد ہی سیاسی مخالفین کی پول پٹیاں کھولنا، ماضی کی واقعات کی مثالوں، حالیہ واقعات یا پھر اپنی من گھڑت کہانیوں کو بنیاد بنا کر سیاسی و نظریاتی مخالفین کا مذاق اڑانا اور ان کی تضحیک کرنا ہوتا ہے۔ افسوس ہوتا ہے دیکھ کر کہ یہ افراد دوسری جماعتوں کو لتاڑتے ہوئے نہ تو اپنے الفاظ کو قابو میں رکھ پاتے ہیں اور نہ ہی انہیں یہ خیال ہوتا ہے کہ ان کی غیر اخلاقی گفتگو ان کی خاندانی تربیت کی عکاسی کر رہی ہے۔ چاہے وہ یہ کام شدید غصہ کی کیفیت میں کر رہے ہوں یا دل کو سکون پہچانے کے لیے۔ درحقیقت گندی زبان کا استعمال خود ان کے اپنے تصور اور موقف کو نقصان پہنچاتا ہے۔ رہی سہی کسر وہ لوگ پوری کردیتے ہیں جنہیں بغیر پڑھے یا سمجھے تصویر شیئر کرنے اور فحش باتوں کو آگے بڑھانے کو شوق ہوتا ہے کہ اس سے انہیں بھی دلی سکون ملتا ہے۔

ملک کی سیاسی تاریخ اور موجودہ دور کے سیاسی پنڈتوں کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ بات لکھنے میں کوئی عار نہیں کہ سوشل میڈیا پر سرگرم سیاسی کارکنان کی یہ "محنت" انتخابات کے وقت بالکل برباد ہوجانی ہے کہ جب ان کے رہنما سیاسی مصلحت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نام پر ایک دوسرے سے مفاہمت کرتے نظر آئیں گے۔ تب انہیں احساس ہوگا کہ سالوں تک جس شخص یا جماعت کی مخالفت میں وہ مغلظات سے بھرپور سرخیوں والی تصاویر شیئر کرتے رہے اور دوسروں سے الجھ کر، ذاتیات کی حد تک جا کر لڑ نے، اپنی تذلیل کر وا کر اور دوسروں کی بے عزتی کر کے، میں نہ مانوں کی بنیاد پر بے جا بحث میں وقت برباد کرکے اپنے ہی تصور کو خراب کرتے رہے اس سے حریف پر کوئی اثر ہوا ہی نہیں۔ اس کے برعکس مخالف کی مشہوری کو چار چاند لگ گئے۔

اگر کسی جماعت یا شخص کے موقف، نظریات یا تعلیمات میں صداقت ہے اور وہ حقیقت میں عام عوام کے لیے مفید ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے مناسب رائج طریقوں سے عوام الناس تک پہنچائے نا کہ جبراً دوسروں پر ٹھوسنے یا مخالف پر تنقید پر اپنا وقت برباد کرے۔ سیاسی تحریکوں کے دوران دیواروں کو گالیوں سے رنگ دیئے جانے کا منظر جب بھی دیکھا یہی خیال کیا کہ یہ لوگ پڑھے لکھے نہیں ہوتے اس لیے سیاسی رہنما کچھ بھی لکھوا دیتے ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا پڑھے لکھے لوگوں کی اجتماع گاہ ہے اور کم از کم یہاں تو دائرہ اخلاق کے حد میں رہتے ہوئے سیر حاصل بحث کی توقع کی جاسکتی ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

4 تبصرے

  1. برادر اپنا سیاسی کلچر صرف "اپنا لیڈر" زندہ باد کے گرد گھومتا ہے۔ کوئی شخص اپنے محبوب لیڈر کے مصدقہ جرم کے بارے بھی بات سننا پسند نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے سیاسی معاشرے میں سیاسی رہنماؤں کے کردار میں بہتری یا احتساب ممکن ہی نہیں ۔۔۔۔۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔۔۔ اور ہمارے احباب رسوائی پروف ہوچکے ہیں۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. فرینڈ says:

    زبردست تحریر...!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. بحیثیت قوم اور امت ہمارے زوال کا سب سے بنیادی سبب یہی ہے کہ ہم اخلاقی طور پر زوال پذیر ہیں، بلکہ اب تو پذیر کے لفظ کو ساتھ جوڑنا ہی نامناسب سا لگتا ہے کیونکہ ہم اتھاہ گہرائیوں میں جا گرے ہیں۔ جو جتنا بڑا بداخلاق ہے وہ اتنا زیادہ ”عزت“ کا حقدار ہے اور جو جتنا منکسر المزاج ہے لوگ اسے اتنا ہی بزدل اور ہیچ سمجھتے ہیں۔ آپ اور میں خود ان رویوں کو اپنے اردگرد روزانہ دیکھتے ہیں۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *