قدم بڑھاؤ شیر علی

میرا اور عابد شیر علی کا تعلق چونکہ صرف ٹی وی سکرین تک حد تک محدود ہے، اس لیے میں ان سے تھوڑا بہت واقف ہوں۔ رہی بات عابد شیر علی کی تو ان جیسے مصروف لوگ تو میرا نام تک بھی نہیں جانتے ہوں گے۔ میں اکثر ٹاک شوز میں انہیں مسلم لیگ (ن) کی پالیسی کا دفاع کرتے، پرویز مشرف کی سابقہ اور پیپلز پارٹی کی حالیہ حکومت پر شدید تنقید کرتے دیکھتا ہوں۔ دیگر سیاسی رہنماوں کی طرح عابد صاحب بھی اپنے قائدین کی مداح سرائی میں مصروف نظر آتے ہیں۔ عابد شیر علی کے خلاف پلاٹس کے اسکینڈل نے مجھے ایک طویل عرصہ تک ان سے بدزن کیے رکھا۔ لیکن اب میں ان کا حمایتی بننے جارہا ہوں۔ جس کی وجہ ان کا تعلیم کے میدان میں ایک بہادرانہ فیصلہ ہے۔

عابد شیر علی نے قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے سربراہ کی حیثیت جعلی ڈگریاں رکھنے والوں کے خلاف جو اعلان جہاد کیا میں اسے بہت ہی قابل ستائش بات سمجھتا ہوں۔ ایک ایسے معاشرے میں کہ جہاں دیگر اہم ترین شعبوں کے ساتھ تعلیم کے میدان میں بھی کرپشن کو عام کردیا گیا ہو، اس قسم کا اقدام بہت جرات مندانہ ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ اصلاحات کے اس عمل کا آغاز انہوں نے اپنے ہی پیٹی بھائیوں سے کیا، جس کی توقع شاید کسی بھی سیاسی جماعت کو نہ تھی۔

عابد شیر علی کا یہ عمل تمام ہی سیاسی جماعتوں کے لیے باعث پریشانی ثابت ہوا۔ ان کے اس اقدام کی سب سے زیادہ مخالفت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کی طرف سے سامنے آئی جو ان کے اراکین کی جعل سازیوں کی ازخود مثال ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود ان کی اپنی جماعت مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی ان کے اس اقدام کی مخالفت کی گئی۔ اس کے علاوہ قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے اراکین بھی ان کے شدید مخالف ہوگئے جس کی وجہ ان کی اپنی اپنی جماعتوں کی طرف سے پڑنے والا دباؤ ہے۔

اب معاملہ یہ ہے کہ عابد شیر علی ایک طرف اور باقی سیاسی جماعتیں ایک طرف ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کی کوشش ہے کہ وہ اپنی صفوں میں موجود بدنیت، کرپٹ اور جعل ساز ساتھیوں کو بچاسکیں۔ جبکہ عابد شیر علی، میڈیا و عدلیہ ان تمام عناصر کے خلاف صف آراء نظر آتے ہیں جو میرٹ کے خلاف اپنے عہدوں پر براجمان ہوکر اس قوم کو وقت اور پیسہ ضائع کررہے ہیں۔

میری خواہش ہے کہ عابد شیر علی کسی دباؤ میں آئے بغیر جعلی ڈگری رکھنے والوں کے خلاف اپنے اس کام کو مزید آگے بڑھائیں۔ اور اس قوم پر مسلط ہونے والے جعلی ڈاکٹروں سے لے کر بددیانت حکمرانوں تک، تمام کی جگہ اس کا اصل حقدار لے۔ اگر عابد شیر علی صرف تعلیم کے میدان کو کرپشن کی آلودگی سے پاک کردیں، حقدار کو اس کا حق دلوانے اور دغابازوں کو اس سے دور رکھنے کا انتظام کردیں تو مجھے امید ہے کہ اس قوم کا ہر ایماندار اور دیانتدار شخص ان کو زندگی بھر یاد رکھے گا۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

13 تبصرے

  1. یہاں تو ایسے بیانات اکثر چھپتے ہیں کہ ڈگری جعلی ہو یا اصلی ہے تو ڈگری نا۔
    کبھی کوئی کہتے ہے وعدے قرآن حدیث تو نہیں جو توڑے نہ جا سکیں۔
    کبھی کوئی کہتا ہے، مان لیا عمر رضی اللہ تعالی قاضی کی عدالت میں گئے لیکن صدر محترم زرداری کیوں عدالت میں جائیں گے۔
    کبھی کوئی رینٹل پاور کے منصوبوں کو عوام کا فائدہ قرار دیتا ہے اور کبھی کوئی وکلا کو خرید کر اپنی حکومت کے خلاف ہونے سے روک رہا ہے۔

    کرپشن ہی کرپشن ہے۔ لگتا ہے اور کچھ ہے ہی نہیں پاکستان میں۔ ایسے میں اگر کوئی کلمہ حق بلند کرتا ہے تو یقینا وہ تعریف کے قابل ہے۔ والسلام

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. پھپھے کٹنی نے کہا:

    اگر وہ تعليمی کرپشن کو ختم کرتے ہيں تو ميری طرف سے پلاٹ کی کرپشن پر انہيں معافی ہے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. عابد شير علی نے جج صاحبان کے بعد جہاد کا اعلان کيا ہے اور اب تک ميدان ميں ڈٹے ہيں ۔ ہم لوگوں کو بھی اب سوچنا چاہيئے کہ بدديانت لوگ ان کی کوشش کو زائل کرنے کی کوشش کريں تو ہم سب کو اُن کی حمائت ميں ميدان ميں اترنا چاہيئے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. ميرا خيال ہے کہ اسلام آباد کے ساتھ پوليس فاؤنڈيشن ہاؤسنگ سوسائٹی ميں عابد شير علی نے ناجائز طريقہ سے پلاٹ نہيں لئے ہوں گے ۔ اگر ايسا ہوتا تو اب تک عابد شير علی کو لٹکايا جا چکا ہوتا

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. راحت حسین نے کہا:

    ماشاء اللہ جی، اچھی اچھی خبریں سنا کر نیکیاں بٹوری جا رہی ہیں. 😀
    اللہ شیر علی صاحب کو ثابت قدمی و حوصلہ عنایت فرمائیں اور ہمیں بحیثیتِ قوم اچھے لوگوں کو پہچاننے اور انکو سامنے لا کر انکی سپورٹ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں. آمین.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. محمداسد نے کہا:

    @ یاسر عمران مرزا
    یاسر بھائی ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کی انتہا ہوچکی ہے. سیاستدان خود کہتے ہیں کہ ہاں ڈگری جعلی، ہم نے دھوکا دیا ہے، ہم نے دغابازی کی ہے. کرلو جو کرنا ہے؟ تو بتایئے کہ اب رہ ہی کیا گیا بے غیرتی کے اظہار کے لیے.

    ایسے میں اگر کوئی ادارہ یا شخص ہمیں اچھا کام کرتے نظر آئے تو اس کی ضرور حوصلہ افزائی کرنی چاہیے. اور اسے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروانی چاہیے. تاکہ اول یہ کہ وہ شخص اپنے آپ کو اکیلا محسوس نا کرے دوم یہ کہ فریق مخالف کو بھی یہ معلوم ہو کہ عوام درحقیقت چاہتے کیا ہیں.

    @ پھپھے کٹنی
    میں تو اپنا پلاٹ بھی ان کے نام کردوں گا ان کے اس کارنامہ کے جواب میں 🙂

    @ افتخار اجمل بھوپال
    کلی متفق ہوں. جتنی برے لوگوں کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے اسی طرح اچھے کام کرنے والوں کو حوصلہ افزائی کی بھی شدید ضرورت ہے. غلطیوں پر تنقید تو بہت عام بات ہے لیکن اچھے کام پر تعریف میں کنجوسی سمجھ سے بالاتر ہے.

    @ راحت حسین
    شکریہ راحت بھائی
    یہ وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے کہ ہم اپنے درمیان ان لوگوں کو پہچانیں جو بہتری کے عمل کے لیے کوشاں ہیں. میں خود شخصی تعریف کو قطعآ پسند نہیں کرتا لیکن جب تمام سیاسی جماعتیں ایک طرف اور ایک شخص اچھے کام پر ڈٹ جائے تو بتایئے کہ بندہ مجبورآ اس شخص کی تعریف نا کرے تو کیا کرے 😐 .

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. طالوت نے کہا:

    @ پھپھے کٹنی
    اب چونکے حالات اس قدر خراب ہیں تو یہ رعایت دینے کو میں بھی تیار ہوں بشرطیکہ اگر عابد شیر علی نے اگر ناجائز پلاٹ لئے ہیں تو واپس کر کے معافی مانگ لیں ۔ مگر تعلیمی کرپشن میں عابد شیر علی کی جرات کو سلام۔
    وسلام

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. عبداللہ نے کہا:

    آپکی نیک خواہشات میں ہم بھی برابر کے شریک ہیں 🙂
    اللہ تعالی عابد شیر علی کو اور ہمت عطا فرمائیں اور ثابت قدم رکھیں آمین

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  9. شازل نے کہا:

    اصلی ڈگری والے کون سا تیر مارلیں گے.
    پہلے بھی گریجویٹ اسمبلی نے وہ کام کیے جو میٹرک پاس نہ کرسکے تھے.
    بلوچستان کے وزیراعلٰی کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ سیاستدان سیاسدان ہوتا ہے چاہے ان پڑھ ہو یا ڈگری ہولڈر.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  10. سعد نے کہا:

    @ شازل
    پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ 😀

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  11. محمداسد نے کہا:

    @ طالوت
    بلاگ پر خوش آمدید. جہاں تک ناجائز پلاٹ کا معاملہ ہے مجھے بھی اس وقت زیادہ خوشی ہوگی کہ جب عابد شیر علی یا تو اس اسکینڈل سے اپنے آپ کو بری کروالیں یا پھر اپنے کیے پر معافی مانگیں. ورنہ ان میں اور جعلی ڈگری پر ڈھٹائی کرنے والوں میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوگا.

    @ عبداللہ
    نا صرف عابد شیر علی بلکہ جعلی ڈگری والوں کا پردہ فاش کرنے کے کام میں ان کے وہ تمام رفقاء اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے حق میں دعا کی جائے اور ان کی بھرپور حوصلہ افزائی بھی کی جائے.

    @ شازل
    آپ کی بات درست ہے مگر ڈگری کی شرط کو بائی پاس کرنے کا طریقہ جعل سازی نہیں بلکہ اس قانون کا خاتمہ تھا جو موجودہ اسمبلی نے کیا. اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ ملک کو ڈگری والوں اور بغیر ڈگری والوں، دونوں نے نقصان پہنچایا تو بھی یہ بات کسی طور جائز نہیں کہ آپ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکیں اور خود کو تعلیم یافتہ ظاہر کر کے جاہل ہونے کا ثبوت پیش کریں. ساتھ ہی ساتھ اس دھوکے بازی پر فخر بھی کریں.

    وزیر اعلیٰ صاحب کو بتانا چاہیے کہ دھوکا دینے والا دھوکے باز ہوتا ہے، جھوٹ بولنے والا جھوٹا ہوتا ہے اور جعلی ڈگری والا دراصل جعل ساز ہوتا ہے. اگر انہیں ہی ملک میں حکمرانی کا حق حاصل ہے تو پھر تعلیم کی کسی کو ضرورت ہی نہیں رہتی.

    @ سعد
    اصل میں جعلی ڈگری کا معاملہ صرف سیاست تک محدود نہیں. کئی اداروں میں لوگ لاکھوں کی تنخواہوں پر کام کررہے ہیں، جس کی بنیاد ان کی جعلی ڈگریاں ہی ہیں. اس طرح کے کاموں سے نہ صرف تعلیم کا مذاق اڑایا جاتا ہے بلکہ تعلیم یافتہ طبقہ کے حوصلہ شکنی بھی ہوتی ہے. لہٰذا اب امید کا وقت نکلتا جارہا ہے اور عمل کا وقت سر پر آنپہنچا ہے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  12. عبداللہ نے کہا:

    درست کہا آپنے مگر کاغذ ی شیروں کی جماعت میں اگر کوئی اصلی شیر نکل ہی آیا ہے تو وہ ایکسٹرا داد کا مستحق 🙂 ہے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  1. 10 جولائی 2010

    [...] This post was mentioned on Twitter by Urdu Blogz. Urdu Blogz said: Post: قدم بڑھاؤ شیر علی http://bit.ly/95953z [...]

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے