ردعمل یا سازش

10 محرم الحرام 1431ھ کو کراچی میں ہونے والے بم دھماکہ میں چالیس سے زائد افراد جاں بحق اور سو سے زائد زخمی ہوئے. اس بم دھماکہ کے فوری بعد کراچی کے مختلف علاقوں سے تشدد کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں جسے ٹی وی اور ریڈیو پر بم دھماکہ کے متاثرین کا ردعمل کہا جاتا رہا. لیکن کچھ ہی دیر میں جب محرم الحرام کا جلوس اپنی منزل کی جانب آگے بڑھا تو تشدد کی کاروائیاں رکنے کے بجائے مزید بڑھ گئیں. کراچی کی تھوک مارکیٹ میں پہلے چند دکانوں کو نظر آتش کیے جانے کی اطلاعات آتی رہیں جو کہ بعد ازاں سنگین صورت اختیار کرگئیں. یہاں اور بہت سے سوالوں کے ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ آیا یہ خوفناک ردعمل واقعی متاثرین کی جانب سے غم و غصہ کا اظہار ہوتا ہے؟ یا کوئی تیسری طاقت اس تمام تر واقعہ کا فائدہ اٹھاکر اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے لگ جاتی ہے؟

سابقہ و حالیہ واقعات پر باریک بینی سے نظر ڈالی جائے تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ دھماکہ کے فقط چند منٹ بعد ہی مختلف عمارتوں کو جلانے کا سلسلہ شروع کیا جاچکا تھا جو کہ کسی بھی طرح ان لوگوں کی جانب سے نہیں کیا جاسکتا جو کہ بم دھماکہ کا نشانہ بنے. جلوس کے اکثر افراد جلوس کے ساتھ ہی آگے بڑھ گئے اور جو تھوڑے بہت بچے وہ امدادی کاروائیوں میں حصہ لینے لگے. ایسے میں یہ باور کرنا کہ یہ بم دھماکہ کے متاثریں کے ساتھیوں کی جانب سے ردعمل ہے ایک فضول مٍفروضہ ہے. کراچی میں ہونے والے پرتشدد واقعات کی آڑ میں جو کاروائیاں کی جاتی ہیں میڈیا میں انہیں اکثر ردعمل ہی کہا جاتا رہا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے.

حالیہ واقعہ میں جس برق رفتاری سے عمارتوں کو گھیرے میں لے کر پہلے لوٹا گیا اور پھر نظر آتش کیا گیا وہ کسی عام فرد یا چند افراد کے گروہ کے بس کی بات نہیں. اس واقعہ میں جس عملی مہارت کا مظاہرہ کیا گیا اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ منظم دہشت گردوں کے گروہ کسی بھی چھوٹے بڑے واقعہ کی آڑ میں اپنے مذموم مقاصد پورے کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں. جیسے ہی کہیں واقعہ ہوا فوراً سے بیشتر انہوں نے ملکی املاک کو نشانہ بنانا شروع کردیا. ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ گروہ فائدہ اٹھانے سے زیادہ شہریوں کی جان اور املاک کو نقصان پہنچانے کے درپہ ہے. جس کی واضح مثال تین سے زائد عمارتوں کو بیک وقت جدید آلات کے ذریعہ آگ میں جھونک کر کراچی کی معشیت پر کاری ضرب لگانے کی کوشش ہے. اس واقعہ میں جہاں ہزاروں دکانیں جلیں وہیں ایک لاکھ سے زائد افراد بے روزگار اور اربوں روپے کی مالیت کا سامان جل کر خاستر ہوجانے کا بھی قوی امکان ہے.

اس کے علاوہ ان علاقوں کو نشانہ بنایا جانا بھی معنی خیز ہے کہ جہاں اکثریت ملک کے دوسرے حصوں سے کراچی آنے والے دکانداروں کی ہوتی ہے. لنڈہ بازار اور اس سے ملحقہ بازار میں پٹھانوں سمیت دیگر قومیتوں کے لوگوں کی دکانیں کثرت سے ہیں. جن کو نشانہ بنانا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دہشت گرد کراچی میں نہ صرف مذہبی و فرقہ وارانہ فسادات کرانا چاہتے ہیں بلکہ مختلف قومیتوں کو لڑانے کی بھی سازش کررہے ہیں. ان دشمنوں کے عزائم کے خلاف تمام مکاتب فکر کے علماٖء کرام کی جانب سے 11 محرم الحرام 1431ھ کو آپس میں بھائی چارہ اور اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا جو قابل تعریف ہے.

کراچی میں ہونے والے اس خوفناک واقعہ سے قبل بھی کئی بار کراچی شہر کو یرغمال بناکر لوٹ مار کا نشانہ بنایا گیا. 12 مئی کا واقعہ ہو یا بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی اور ان کے راولپنڈی میں انتقال کے بعد کے فسادات کا یا 12 ربیع الاول کو ہونے والے خونریز بم دھماکوں کا یا عدلیہ بحالی کی تحریک میں ہونے والے تشدد کا، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ظالم گروہ ہماری پولیس اور رینجرز سے زیادہ باصلاحیت اور طاقتور ہے. لہٰذا حکومت کو فقط ڈبل سواری پر پابندی، طالبانائزیشن کے واویلے، ذاتی و سیاسی مفادات اور اقتدار کی رساکشی سے باہر نکل کر عوام اور شہر کی فلاح کے لیے عملی اقدامات سمیت پولیس اور دیگر قانون نافظ کرنے والے اداروں کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دینی چاہیے.

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

3 تبصرے

  1. ذمہ دار کوئی بھی ہوچاہے میرا کوئی قریب عز یز ہی کیوں نہ ہو اسے سزا ضرور ملنی چاہیے.امن و امان کی ذمہ داری پولیس اور رینجرزکی ہوتی ہے مگراس واقعے میں پولیس اور رینجرز کا کردار وہ ہی تھا جو نائیک فلم میں پولیس کا کردار دکھایا گیاہے..

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. پولیس اور رینجر کی غیر حاضری معنی خیز ہے مطلب سازش در سازش 🙁

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. @فرحان دانش
    ذمہ داری صرف بم دھماکہ کرنے والوں پر نہیں ڈالی جاسکتی، سیکورٹی کلیرنس دینے والوں کو بھی شامل تفتیش کرنا چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے.

    @کنفیوز کامی
    بلاگ پر خوش آمدید.
    درست فرمایا آپ نے. اسی لیے بہت سے حلقہ اس سازش میں عوام کے بجائے حکمران طبقہ کو ملوث سمجھتے ہیں

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *