RGST پر سیاست!

7

آر جی ایس ٹی یعنی ریفارمڈ جرنل سیلز ٹیکس کا معاملہ جب سے سامنے آیا ہے، ایک جانب تو اس پر کئی اقتصادی ماہرین مختلف اعتراض کر رہے ہیں تو دوسری جانب بہت سے ماہرین معیشت اسے حکومت کا ایک مثبت قدم قرار دے رہے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں یہ اصلاحاتی پیکیج معاشی زاویہ سے نکل کر سیاسی رخ اختیار کرچکا ہے۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے قانون کی تیاری اور اسے نافذ العمل کرنے کی سر توڑ کوشش کی جارہی ہے مگر اپوزیشن اور حکومتی اتحادی جماعتیں اس معاملہ پر سیاست کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے اور مفادات کے حصول کی خاطر کمربستہ نظر آرہی ہیں۔

پیپلز پارٹی کی وفاقی و صوبائی اتحادی اور صدر مملکت جناب زرداری کی سب سے زیادہ احسان مند جماعت عوامی نیشنل پارٹی، وفاق اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی مضبوظ اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ اور حکومت کی کل وقتی اتحادی جماعت جمعیت علماء اسلام (ف) بھی اس اصلاحاتی کے خلاف سخت موقف اختیار کرچکے ہیں۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان مسلم لیگ (ق) نے اپوزیشن کا روایتی کردار ادا کرتے ہوئے اول روز ہی سے اس بل کے خلاف ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ لیکن ان تمام جماعتوں کا اس اہم معاملے پر کردار انتہائی واجبی اور عام سا ہے۔ جبکہ ان سیاسی و مذہبی جماعتوں کا ماضی نکال کر دیکھا جائے تو یہ  جماعتیں ذاتی اور تنظیمی معاملات میں انتہائی حد تک جانے سے بھی گریز نہیں کرتیں۔

مثلاً اے این پی کا کوئی رہنماء ایم کیو ایم پر تنقید کردے تو دونوں جماعتیں ایک دوسرے خلاف ایسے ہی صف آراء ہوجاتیں ہیں جیسے دشمن ممالک مخالفین کے پروپگنڈے کے سامنے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ماضی شاہد ہے کہ ان دونوں جماعتوں کی جانب محض ایک دوسرے کے رہنماؤں اور کردار پر تنقید کرنے پر بیانات اور دھمکیوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ وفاقی حکومت کو مداخلت کرتے ہوئے دونوں جماعتوں کو امن کا درس دینا پڑا۔ اس کے برعکس آر جی ایس ٹی کے اہم ملکی معاملہ پر اے این پی اور ایم کیو ایم کی جانب صرف زبانی کلامی احتجاج، اسمبلی سے واک آوٹ! رابطہ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس اور نہ حکومت چھوڑنے کی دھمکی، قائدین سے مشاورت اور نہ ہی عوام سے احتجاج کی فرمائش، کالے جھنڈے اور نہ ہی احتجاجی بینر!

مسلم لیگ (ن) اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کا معاملہ بھی کچھ مخلتف نہیں۔ مسلم لیگ (ن) تو پہلے ہی پیپلز پارٹی کے ساتھ معاہدے اور دوستی کر کے بے وفائی کا گلا کرتے نہیں تھکتی اور مسلم لیگ (ق) کو موجودہ دور میں کوئی ترقیاتی کام صوبے میں نظر آتا ہے اور نہ وفاق میں۔ گورنر پنجاب کا ایک بیان پوری مسلم لیگ (ن) پنجاب حکومت کو ہلا دیتا ہے اور فی الفور جوابی حملہ کی حکمت عملی تخلیق ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) کو قاتل لیگ کہنے پر شدید اعترار سامنے آتا ہے اور ایوان میں بھی کڑی تنقید کی جاتی ہے۔ لیکن جب بات آتی ہے آر جی ایس ٹی کے اہم قومی معاملے کی یہ دونوں جماعتیں بھی فرینڈلی اپوزیشن کی طرح صرف بیانات و مطالبات پر اکتفا کرتی ہیں، اس پر تو کوئی تجویز پیش کی جاتی ہے اور نہ کسی میثاق کا رونا پیٹا جاتا ہے، وزیراعظم کو فون کیا جاتا ہے اور نہ صدر کو خط لکھا جاتا ہے، عدم تعاون کی تحریک چلانے کی دھمکی دی جاتی ہے اور نہ پنجاب حکومت سے علیحدہ کردینے کا عندیہ!

ان تمام جماعتوں کے رویوں سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین اور رنماؤں کے نزدیک ذاتی، شخصی، سیاسی اور تنظیمی مفاد سے بڑھ کر کوئی دوسری چیز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نجی معاملات پر ان سیاسی جماعتوں کے جس طرح کا شدید ردعمل ظاہر کیا جاتا ہے وہ ملکی و قومی معاملات پر ظاہر نہیں کیا جارہا اور معاملات پر صرف سفارشات کی منظور کا مطالبہ کیا جارہا ہے وہ بھی بے دلی سے۔ چھوٹے چھوٹے غیر عوامی مسئلوں پر ایک دوسرے سے گھتم گھتا ہوجانے والے سیاست دان اور ان کی جماعتیں ملک کی معاشی ترقی کے معاملہ پر جس طرح کا کردار ادا کررہی ہیں وہ انہتائی مایوس کن ہے۔

سینیٹ میں آر جی ایس ٹی کی منظوری کے روز ہونے والے سیشن کی کاروائی ملاحظہ فرمائیں تو بھی یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس پیکیج کی ظاہری مخالفت کرنے والی تنظیمیں حکمران جماعت کو اس پیکیج کے نفاذ کی کھلی چھوٹ پہلے ہی فراہم کرچکی ہیں۔ اگر سیاسی جماعتوں کا کردار یہی رہا تو آر جی ایس ٹی چند ہی روز میں قومی اسمبلی سے بھی بغیر کسی پریشانی کے منظور کروالیا جائے گا اور یہ سیاسی جماعتیں چند مذمتی بیانات کے بعد دوبارہ اپنے گورکھ دھندوں میں لگ جائیں گی۔ رہی پاکستان کی عوام، تو وہ جب تک زندہ رہیں گے ان عوامی نمائندگان کے ہر فیصلہ کو قبول کرنے پر مجبور ہوتے چلے جائیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

7 تبصرے

  1. علی عامر کہتے ہیں

    سینٹ میں آر۔ایس۔جی۔ٹی کی منظوری پر جو شرم ناک منظر دیکھنے میں آیا ہے۔ وہ نہ صرف تکلیف دہ ہے بلکہ قابل ِمذمت بھی ہے۔
    کوئی بھی سیاسی جماعت الیکشن سے قبل ۔۔۔ بلند و بانگ نعروں سے عوام کو سنہری جال میں پھنسا کر منتخب ہو کر جب حکومت میں‌آتی ہے۔ تو ان کے ارد گرد چند عاقبت نا اندیش جمع ہو کر ۔۔۔ مال مفت دل ِبے رحم کے مصداق ۔۔۔ اسی عوام کا گلا گھونٹنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اپنی عیاشیوں اور شاہانہ اخراجات کے سبب ۔۔۔ عوام پر نت نئے ٹیکسز لگانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
    RSGT اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اے این پی، جمیعت علماء اسلام(فضل الرحمن گروپ) اور مسلم لیگ (ق) نے جس طرح حکومت کی خاموش حمایت کی ہے۔ وہ پہلے سے ہی طے شدہ فارمولے کا حصہ تھی۔ ہر سیاسی اور مذہبی جماعت بندر بانٹ میں‌مصروف ہے۔
    مرے کو مارے شاہ مدار ۔۔۔ عوام مار کھانے پر مجبور ہے اور نااہل حکمران ان کا خون چوسنے میں‌مصروف ہیں۔
    اس وقت نفرادی طور پر نہیں بلکہ اجتماعی طور پر بیداری کی ضرورت ہے۔ وہ دن تو دور ہو سکتا ہے لیکن یہ بات نا ممکنات میں‌نہیں ۔۔۔۔۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. وقار اعظم کہتے ہیں

    آپ کا کہنا ہے کہ ریفارمڈ جی ایس ٹی پر سیاست ہورہی عجیب سی بات ہے. جناب سیاست کوئی شجر ممنوعہ نہیں ہے اور سیاسی جماعتیں سیاست نہیں تو اور کیا کریں گی؟ ہاں یہ سیاست عوام اور عوامی مفاد کے لیے ہونی چاہیے لیکن یہاں تو مفادات کی جنگ ہے اور منافقت میں بازی لے جانے کی جدو جہد. آپ کا تجزیہ درست ہے اور یقینا جلد ہی یہ پارلمنٹ سے بھی منظور کروالیا جائے گا. اور یہ نام نہاد عوامی حقوق کے دعویدار زبانی کلامی بکواس کرکے اندرون خانہ اس کی حمایت ہی کرینگے….

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. محمداسد کہتے ہیں

    @ وقار اعظم
    مجھے کسی بھی عوامی معاملے پر سیاست پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں، لیکن آر جی ایس ٹی پر یا تو سیاست برائے مفاد ہورہی ہے یا پھر سیاست برائے تنقید. ممکن ہے یہ بل برائیوں سے بھرپور ہو یا اچھائیوں سے پر، لیکن دونوں صورتوں میں عوامی نمائندگان کو واضح حکمت عملی کے تحت کام کرنا چاہیے اور اس پر عوام کو بھی اعتماد میں لیا جانا چاہیے. اس کے برعکس ہمارے سیاست دان خانہ پوری والا کردار ادا کررہے ہیں. اس کی مثال ایک بار پھر سینیٹ میں بل پاس ہونے کی دینا چاہوں گا کہ اس بل کے خلاف جن لوگوں نے ووٹ ڈالنے تھے وہ تو واک آؤٹ کر کے یعنی میدان ہی چھوڑ کر بھاگ گئے، جس سے حکمران جماعت کو بل پاس کروانے میں جو تھوڑی بہت پریشانی تھی وہ بھی ختم ہوگئی. سوال تو یہی ہے کہ عوام نے اسمبلی اراکین کو ووٹ واک آؤٹ کرنے کے لیے دیے تھے یا پھر ان کے حق میں آواز اٹھانے کے لیے؟

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. نعمان کہتے ہیں

    آپ میں سے کسی کو ریفارمڈ جی ایس ٹی کے اصل مسودے تک رسائی ہے؟ جہاں تک میرا خیال ہے یہ ایک ٹیکس ریفارم ہے کوئی نیا ٹیکس نہیں اس میں چند اشیا پر سیلز ٹیکس میں اضافہ اور چند میں کمی کی جارہی ہے۔ اوسطا گرچہ سیلز ٹیکس کم ہوگا مگر اس سے مجموعی طور پر مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ ڈاکومینٹیشن میں اضافہ ہوگا جس سے ٹیکس نیٹ وسیع اور ٹیکس چوری کے امکانات کم ہونگے۔ اس بل کی اچھائیاں اور برائیاں دونوں ہیں مگر یہ ریفارم اس لئے ضروری ہے کہ ہمیں ٹیکس اصطلاحات کے بغیر مزید قرضہ نہیں مل سکتا۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. کاشف نصیر کہتے ہیں

    میری معلومات کے مطابق اصلاحاتی سیلز ٹیکس بل کے تحط حکومت کچھ نئے اشیاء پر سیلز ٹیکس لگانا چ اور کسی حد تک ٹکس کی وصولیابی کے نظام کو بہتر کرنا چاہتی ہے.
    اب تک اس بل پر کے جزیات پر زیادہ بحث نہیں ہوئی اور لوگوں کے پاس اس پر بحث کرنے کے لئے معلومات کی شدید کمی ہے.
    جہاں تک سیاسی جماعتوں کی پوزیشن کا تعلق ہے تو سب زرداری اور طرز حکمرانی کو اچھی طرح جانتی ہیں. سبوں نے اپنی اپنی بولیاں لگادیں ہیں اب دیکھنا یہ زرداری صاحب کس کس کی بولی کو قبول کرتے ہیں. مولانا فضل الرحمان، اے این پی اور ق لیگ والوں کی بولیاں اب تک مانی جاچکی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ایم کیو ایم کی بولی کا کیا ہوتا. آیا بلدیاتی انتخابات کا کوئی سین بنتا ہے کہ نہیں.
    وقت اصل فیصلہ کرے گا…

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. محمداسد کہتے ہیں

    @ نعمان
    اول تو اصل مسودے تک رسائی مشکل ہے اور دوم یہ کہ مسودہ میسر آ بھی جائے تو میرے خیال میں اسے سمجھنے کے لیے ماہر معیشت کی خدمات حاصل کرنی پڑیں گی. البتہ اس ‘ٹیکس ریفارم’ کا خلاصہ یہاں سے پڑھا جاسکتا ہے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.