سبین محمود کے قاتل

میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں سبین محمود کے بارے میں بلاگ لکھوں گا لیکن گذشتہ دنوں ان کی المناک موت نے مجبور کیا کہ کچھ کہا جائے، لکھا جائے، بولا جائے اور پوچھا جائے۔

پچھلے دنوں اردو سوشل میڈیا سمٹ کے حوالے سے مشاورت کے لیے ہم نے چند اہم شخصیات سے ملاقات کی فہرست بنائی تو اس میں سبین محمود کا نام بھی شامل تھا۔ میرا خیال تھا کہ عام دنوں میں ہماری اور موصوفہ کی محنت بالکل متضاد سمت میں ہے اس لیے وہ شاید ہمیں وقت نہ دے سکیں لیکن اس کے برعکس نہ صرف انہوں نے پروگرام کے حوالے سے قیمتی مشورے دیئے بلکہ اپنے دفتر ٹی 2 ایف (دی سیکنڈ فلور) میں اس حوالے سے تعارفی پروگرام کرنے اور تشہیری بینرز لگانے کی بھی پیش کش کی۔ یہ ان کا بڑا پن تھا کہ انہوں نے شدید نظریاتی اختلافات ہونے کے باوجود اردو زبان اور سوشل میڈیا کے فروغ میں ہماری کوششوں کی حوصلہ افزائی کی۔

جب جب میں نے سبین محمود کے قتل کے بارے میں پڑھا اور سوشل میڈیا پر لوگوں کی آہ و بکا دیکھی مجھے ایسا محسوس ہوا کہ یہ واقعہ پہلے بھی ہوچکا ہے۔ یاد آیا کہ سبین محمود پہلی خاتون نہیں جنہیں اس طرح قتل کیا گیا ہو۔ ان سے قبل ہزاروں لوگ کراچی میں ہدف بنا کر قتل کیے جا چکے ہیں۔ ان میں علماء کرام، صحافی، وکیل، اساتذہ، سائنسدان سے لے کر عام مزدور تک سب ہی شامل ہیں۔

سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے سبین محمود کے قتل کا ذمہ دار آئی ایس آئی کو قرار دیا، کسی نے طالبان کی طرف اشارہ کیا تو کسی نے کچھ اور کہا۔ میں نے جب بھی اس حوالے سے سوچنا چاہا مجھے ایک ہی جواب ملا کہ یہ سب "نامعلوم افراد" کا کیا دھرا ہے۔ اور یہ نامعلوم افراد پہلے پکڑے گئے ہیں نا آئندہ کبھی پکڑے جائیں گے۔

پھر کیا ہوگا؟ وہی جو ہوتا چلا آ رہا ہے۔ لیکن کب تک؟ معلوم نہیں۔ اک عجیب سی مایوسی ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

4 تبصرے

  1. اللہ تعالی مرحومہ کو غریق رحمت فرمائیں ۔
    یہ نامعلوم ، قاتل اللہ ان سے قوم کو بچائے
    یہ نامعلوم لوگ گولیاں مارتے ہیں بندے کو مسنگ پرسن کر دیتے ہیں ۔
    پھر بھی نامعلوم رہتے ہیں ۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہوتلاش کروں

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. محمد زبیرمرزا says:

    اللہ تعالٰی اُن کی مغفرت فرمائے - ایسے واقعات پر قیاس آرائیاں اورخبریں ہوتی پھرہم بھول کر وہی اپنی دنیا میں مست ہوجاتے ہیں بےحسی کا لبادہ اُڑھ کر-بھرے شہر میں ایسے سانحے ہوتے ہیں اور سب کی آنکھیں بندہوتی ہیں کیا شہری اورکیا قانون کے رکھوالے -

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  1. May 20, 2015

    […] پیش آئے کہ جس میں سوشل میڈیا سے وابستہ معروف شخصیت سبین محمود اور جامعہ کراچی کے پروفیسر وحید الرحمن کو قتل کردیا […]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *