سعادت مند عوام

کسی صاحب نے مجاز لکھنوی سے پوچھا: "آپ کے والدین آپ کی رِندانہ بے اعتدالیوں پر کچھ اعتراض نہیں کرتے؟" مجاز نے کہا: جی نہیں. پوچھنے والے نے کہا: کیوں؟ مجاز نے کہا:" لوگوں کی اولاد سعادت مند ہوتی ہے، مگر میرے والدین سعادت مند ہیں." جب میں نے مجاز لکھنوی کا یہ جواب پڑھا تو مجھے اندازہ ہوا کہ یہ ایک فقرہ ہماری ملکی قیادت کے لئے کتنا قیمتی ہے.

میرا دل چاہا کہ میں جناب صدر اور ان کے وزراء کو یہ واقعہ بتاؤں اور کہوں کہ اگر آپ سے قریبی دوست ممالک دریافت کریں کہ جناب عوامی ٹیکسوں اور ہمارے دئیے گئے قرضوں پر آپ کی عیاشیاں دیکھ کر آپ کی عوام اعتراض نہیں کرتی؟ تو آپ بڑے سکون سے سےمجاز لکھنوی کی طرح عرض کردیجئے گا: "حضرت! تمام ملکوں میں حکمران سعادت مند ہوتے ہیں. مگر ہمارے عوام سعادت مند ہیں".

میں سوچنے لگا کہ کسی طرح اپنی فوج کے افسران بالا کو بھی یہ واقعہ لکھ بھیجوں تاکہ اگر کوئی ان سے دریافت کرے کہ آپ اپنے بجٹ کا ایک بڑا حصہ عوام کو کس دشمن سے بچانے کی کوشش میں خرچ کرتی ہے؟ تو ہماری عسکری قیادت بڑے آرام سے مخاطب کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے بتلادے: " سر! دنیا عوام کو دشمن سے بچانے کی کوشش کرتی ہے، مگر ہم دشمن کو عوام سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں ".

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے