شاہراہ وقت پر کامیابی کا سفر (کتابچہ)

آپ بہت ذہین ہیں، اپنے شعبے میں ماہر ہیں اور اعلی صلاحیتوں کے مالک بھی ہیں لیکن اگر وقت پر کام مکمل نہیں کرتے تو آپ کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اور وقت پر کام مکمل کرنا صرف ایک ہی صورت میں ممکن ہے کہ آپ دن بھر میں دستیاب چوبیس گھنٹوں کا بامقصد استعمال کر کے اپنے آج کو گزرے کل سے بہتر بنائیں۔

بدقسمتی سے ہمیں اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں تنظیم وقت یعنی Time Management کی تربیت نہیں دی جاتی۔ اسی لیے کبھی کوئی دوست کاروباری اور گھریلو مصروفیات میں عدم توازن کی شکایت کرتا نظر آتا ہے، تو کوئی عزیز سارا دن کوہلو کا بیل بنے رہنے کے باوجود کام ادھورے رہ جانے پر شکوہ کرتا ہے۔ کچھ لوگ اضافی محنت سے کسی نہ کسی طرح اہم معاملات جیسے تیسے نمٹا بھی لیتے ہیں لیکن ان غلطیوں کی طرف توجہ کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا جن کی وجہ سے ایک آسان کام میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مجھے خود طویل عرصے تک اس حوالے سے پریشانی لاحق رہی کہ وقت ملتا نہیں اور کام بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ تقریباً سال بھر قبل محمد بشیر جمعہ صاحب کے ایک پروگرام میں شرکت کا موقع ملا جس میں انہوں نے وقت کے بہتر استعمال پر سیر حاصل گفتگو کی۔ پروگرام کے بعد ان کی کتاب 'ترقی و کامیابی بذریعہ تنظیم وقت' بطور تحفہ موصول ہوئی اور پھر ایک نجی محفل میں بھی ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔

گزشتہ روز محمد بشیر جمعہ صاحب کا ایک کتابچہ 'شاہراہ وقت پر کامیابی کا سفر' بذریعہ ای-میل موصول ہوا جس کے ساتھ مطالعے کا مشورہ اور دیگر احباب تک پہنچانے کی تاکید بھی کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں انہوں نے تعلیمی اور رفاحی غرض سے اس کتابچے کو چھپوا کر مفت تقسیم کرنے کی اجازت بھی دی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ حاصل کرسکیں۔

اس کتابچے میں بہت مختصر اور جامع انداز میں سمجھایا گیا ہے کہ آپ تنظیم وقت سے کیا فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔ مثلاً وہ کیا طریقے ہیں جن سے ہم اپنا قیمتی وقت بچا کر اسے بامقصد استعمال کرسکتے ہیں، وہ کونسے کام ہیں جن میں ہمارا وقت غیر محسوس طریقے سے ضائع ہوتا ہے اور ہمارے روز مرہ کے کاموں سے غیر ضروری افعال کو کیسے پہچانا اور نکالا جائے۔ اس کے علاوہ زندگی کے نصب العین کا تعین، اس کے حصول کے طریقے، عملی زندگی میں پیش آنے والی مشکلات سے نمٹنے اور تیزی سے ہونے والی معاشرتی تبدیلیوں سے سیکھنے جیسے اہم امور پر ھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

اگر آپ بھی بشیر جمعہ صاحب کا یہ کتابچے حاصل کر کے تنظیم وقت سیکھنا چاہیں تو ذیل میں موجود فارم پُر کریں تاکہ آپ کو 'شاہراہ وقت پر کامیابی کا سفر' بذریعہ ای-میل ارسال کیا جاسکے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کیجیے

@جاوید اقبال: شکریہ جاوید صاحب۔ آپ اپنا ای-میل اسی تحریر کے آخر میں موجود خانے میں لکھ کر بھیج دیں۔ آپ کو کتاب اور بشیر جمعہ صاحب کا ای-میل موصول ہوجائے گا۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
جاوید اقبال says:

آوارہ گردی کرتے ہوۓ آپ کے بلاگ پر آ پہنچا، "شاہراہ وقت" پر کامیابی کا سفر کا ٹا ئٹل دیکھا تو پرانی یادیں امڈ آئیں، کیونکہ "شاہراہ زندگی" پر کامیابی کا سفر کوئی پندرہ برس پہلے پڑھی تھی، شاندار کتاب تھی۔ بہت کچھ سیکھا، بہت سارے ددستوں کو تحفہ دی۔(اور اب اپنی کاپی بھی گم ہے) آپ کے آرٹیکل نے دوبارہ یاد تازہ کر دی۔
اب یہ نیا کتابچہ پڑھنے کا شوق ہوا ہے، امید ہے یہ بھی زبردست ہوگا۔
بشیر جمعہ صاحب کو سلام! اگر انکا کوئی ای میل مل جائے تو نوازش ہوگی۔
جاوید اقبال، لاہور۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

بہت شکریہ انشاء اللہ ضرور پڑھوں گا. وقت کی اہمیت جتنا ہمارا مذہب ہمیں سکھاتا ہے اُتنا کوئی اور نہیں. جس کی چھوٹی ایک مثال ہماری پانچ وقت نماز ہے جس کو باجماعت پڑھنے کی تاکید بارہا کی گئی ہے. منظم لوگ اپنی زندگی کا پچیسواں گھنٹہ بھی استعمال کرنے کی فکر میں ہوتے ہیں جبکہ ہم جیسے نالائق افراد چوبیس کو بھی صحیح استعمال نہیں کرسکتے. اللہ بخشے مرحوم ڈاکٹر ظہور احمد اعوان نے پچیسویں گھنٹے کے استعمال پر ایک جامع مضمون لکھ چکے ہیں اور پشاور سے روزنامہ آج میں شائع بھی ہوچکا ہے. پچیسواں گھنٹہ ہو وقت ہوتا ہے جب ہم سفر کررہے ہوتے ہیں، کسی کا انتظار کررہے ہوتے ہیں تب ہم کچھ پڑھ سکتے ہیں سن سکتے ہیں یا اس دوران ایسا کوئی کام کرسکتے ہیں جو ہمارے وقت کو ضائع ہونے سے بچائے.

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
فیاض says:

بہت عمدہ شئیرینگ، آج سے تقریبا بی سبرس پہلے شاہری زندگی پر کامیابی کا سفر پڑھی تھی اور اس کے بعد کئی دوستوں کو بطور تحفہ بھی دی ایک بہترین کتاب ہے زاتی زندگی کو بہتر بنانے کےلیے

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

@نورین تبسم: ایک انتہائی مختلف زاویہ ہے یہ، ضرور پڑھوں گا اور ممکن ہوا تو رائے بھی شامل کروں گا۔

@راجہ اکرام: جی ہاں، محمد بشیر جمعہ صاحب ہی مصنف ہیں۔

@محمد اسلم فہیم: آمین

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

بشیر جمعہ صاحب "خوبصورت" لکھتے ہیں بارہا انہیں پڑھنے کا اتفاق ہوا ان کے مضامین ہفت روزہ"ایشیا " کی زینت بنتے رہتے ہیں
اللہ ان کے قلم میں برکت عطا فرمائے

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

بشیر جمعہ صاحب مصنف ہیں ؟

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

"وقت تو ہزاروں سال سے یہاں پر ہے ہمیشہ رہے گا. وقت کی مینجمنٹ کی فکرچھوڑیں وقت اپنے آپ کو خود دیکھ لےگا.آپ اپنے دماغ کی مینجمنٹ کریں.جب اپنے دماغ کو درست انداز سے استعمال کرنا، نئے طریقے سے سوچنا شروع کر دیں گے تو باقی تمام مسائل ازخود ختم ہو جائیں گے."....
( ایک سیمینار میں ٹونی بزان کی آخری بات...لاہور... اگست 23. 2015)
کل ہی جناب عامر ہاشم خاکوانی کا یہ کالم پڑھا اور سوفیصد متفق ہوں. آپ سب بھی پڑھئیے اور غور کیجئیے، شکریہ
http://m.dunya.com.pk/index.php/author/amir-khakwani/2015-08-24/12398/95446020

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

@Kashif Naseer: جی یہ الگ کتابچہ ہے لیکن مصنف ایک ہی ہیں۔

@افتخار اجمل بھوپال: آج کو دیکھیں تو آپ کی بات واقعی عجیب لگتی ہے۔ ماضی میں نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کو فروغ دینے سے متعلق ہم اپنے بڑوں سے سنتے ہی آئے ہیں۔ جیسا کہ کھیل میں مہارت کی بنیاد پر اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں داخلہ، اس کے علاوہ این سی سی اور اسکاؤٹس کی ٹریننگ۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ تعلیم کا مقصد و منشا کاروبار ہے، تبھی اس کا یہ حال ہے۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

اچھی بات ہے کہ کچھ لوگ تنظیمِ وقت پر لکھنے لگ گئے ہیں ۔ آپ کو شاید تعجب ہو کہ جس زمانہ میں میں نے سکول میں تعلیم پائی ہمارے اساتذہ تنظیمِ وقت سمیت اپنی زندگی کو منظم کرنے کا سبق دیتے رہتے اور اس سلسلہ میں اجتماعی اور انفرادی طور پر طریقے بھی بتاتے تھے ۔ 1966ء کے بعد سکولوں کالجوں میں سیاست کی پنیری لگانے کیلئے پہلے اساتذہ اور طلباء کی تنظیم میں دراڑیں ڈالی گئیں جس کا نتیجہ ہم دیکھتے آ رہے ہیں مگر بہتری کی طرف جانے کیلئے صرف دوسروں پر تہمتیں باندھتے ہیں

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

ohhhh please.....

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

شاہرائے زندگی پر کامیابی کا سفر کے علاوہ ہے یہ؟

اس تبصرے کا جواب دیںجواب