تین روزہ سوشل میڈیا ورکشاپ کا احوال (1)

3

صحافت دنیا میں ایک مقدس پیشہ سمجھا جاتا ہے جس سے وابستہ افراد پر ایک جانب لوگوں کو مکمل سچائی سے باخبر رکھنے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے تو دوسری جانب پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں کئی طرح کے خطرات کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ ایسے میں انٹرنیٹ بالخصوص سوشل میڈیا (ٹویٹر، فیس بک اور ویڈیو و تحریری بلاگنگ) صحافت میں کس قدر کارآمد ثابت ہوسکتا ہے اس حوالے سے پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف) کی جانب سے ذرائع ابلاغ کے صحافیوں کے لیے تین روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا۔

گو کہ میں نے اس ورکشاپ میں پی پی ایف کی نمائندگی کی لیکن منتظمین کے بجائے شرکاء کی فہرست میں رہنا زیادہ پسند کیا۔ اس طرح صحافیوں اور ان کے علاقوں کے متعلق حقیقی صورتحال جاننے کا اچھا موقع میسر آیا اور ساتھ ہی میزبانی جیسے بوریت والے کام بھی نہیں کرنے پڑے۔ 6 تا 8 اکتوبر عربین سی کنٹری کلب میں جاری رہنے والی اس ورکشاپ میں میرے ساتھ ادارے کے دیگر تین ساتھیوں اور ہماری انسٹرکٹرسندس رشید کے علاوہ گیارہ صحافیوں نے بھی شرکت کی۔

احباب کو تین روزہ ورکشاپ (اور دیندار دوستوں کو ‘سہ روزہ’ پر جانے) کا بتا کر دعاؤں کی درخواست کرنے کے بعد پانچ اکتوبر کی شام اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کنٹری کلب روانہ ہوا جہاں ہمیں تین روز تک ‘قید’ رہنا تھا۔ ہمارے علاوہ چند صحافی بھی اسی رات ہوٹل پہنچے جن سے عشائیہ پر ہی ملاقات ہو گئی۔ ان میں جیو نیوز (مالاکنڈ) کے محبوب علی، دی نیوز (خیبر ایجنسی) کے اشرف الدین پیرزادہ، ایکسپریس ٹریبیون (پشاور) کے منظور علی، روزنامہ ایکسپریس (فاٹا) کے صفدر داوڑ، ریڈیو پاکستان اور دی نیوز کے ہارون سراج و دیگر بھی شامل تھے جن کا ذکر آگے تفصیل سے آتا رہے گا۔

ایسا تو ہو نہیں سکتا کہ جہاں صحافی مل بیٹھیں وہاں ملکی صورتحال پر بات نہ ہو، اس لیے اس بار بھی کھانے پر مختصر تعارف کے بعد گفتگو کو رخ مملکت کے جنگ زدہ علاقوں کی صورتحال کی جانب ہوگیا۔ گفتگو کے دوران محبوب علی نے کہا کہ اس وقت ریاست تمام تر فرائض کی انجام دہی میں ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے دلیل پیش کی کہ ریاست بیرونی اور اندرونی دشمنوں (ڈرونز اور بم دھماکوں) سے حفاظت کی ذمہ داری انجام دے رہی ہے اور نہ طب، تعلیم و دیگر سہولیات عوام کو فراہم کر رہی ہے، اس لیے پاکستان ایک فیل اسٹیٹ بن چکا ہے۔

زیادہ تر حاضرین محبوب علی کی بات سے متفق نظر آئے لیکن اشرف الدین نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے موجودہ ناگفتہ بہ حالات کو اسٹیٹ فیلیئر کے بجائے حکومتی نااہلی اور ناکامی قرار دیا۔ ان کے ساتھ بیٹھے منظور علی نے بھی ان کے موقف کی تائید کی۔ اس دلچسپ بحث کے دوران آئی ایس آئی اور شدت پسندوں کے درمیان صحافیوں کے سینڈوچ بن جانے کے متعلق بھی گفتگو ہوئی۔ اشرف الدین نے بتایا کہ کس طرح قبائلی علاقوں میں جاری جنگ کے باعث بے شمار افراد ناکردہ گناہوں پر نشانہ بنا دیئے گئے اور کس طرح بے گناہ افراد کو خود کش حملہ آور قرار دے کر یا دوسرے الزامات لگا کر اٹھا لیا گیا اور ان کا آج تک کچھ اتا پتا نہیں۔

یہاں مجھے فیس بک کی غیر معمولی مقبولیت کا بھی اندازہ ہوا۔ ہم میں سے تقریباً سب ہی افراد نہ صرف فیس بک سے پوری طرح واقف تھے بلکہ اسے استعمال بھی کر رہے تھے لیکن ٹویٹر ، گوگل پلس یا کسی اور سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں۔

آخر میں اشرف الدین نے میری جانب دیکھتے ہوئے تعارف کروانے کا کہا جس پر میں نے ایک بار پھر مختصراً اپنا نام اور ادارے سے وابستگی کے متعلق بتایا۔ میرا جواب سن کر ان کے چہرے پر قدرے اطمینان سا محسوس ہوا۔ ممکن ہے وہ پہلے میری خاموش طبیعت کو ‘مشکوک’ خیال کرتے ہوئے مجھے ایجنسی کا خفیہ ایجنٹ خیال کر رہے ہوں جو سن تو سب رہا ہے لیکن بول کچھ نہیں رہا۔

رات کے مزے دار کھانے اور شرکاء کے ساتھ سیر حاصل گفتگو کے بعد ہم اپنے کمروں کی جانب چل دیئے۔ میرے روم میٹ چونکہ ہوٹل پہنچے نہیں تھے اس لیے مجھے رات اکیلے ہی گزارنی تھی۔ ہوٹل میں سب چیزیں توقعات سے بڑھ کر اور بہترین تھیں لیکن کمرے میں انٹرنیٹ کی عدم موجودگی اور موبائل کے کمزور سگنلز نے بہت مشکل میں ڈال دیا۔ خصوصاً ان لوگوں کے لیے جن کی زندگی حقیقی سے زیادہ ورچوئل دنیا سے منسلک رہتی ہے، بغیر انٹرنیٹ وقت گزارنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ بہرحال، نیند چونکہ ایسی چیز ہے جو سولی پر بھی آجاتی ہے، اس لیے میں بھی آئندہ صبح ورکشاپ کے پہلے مرحلے کے بارے میں سوچتے ہوئے بستر میں گھس گیا۔

(اگلا حصہ)

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. م بلال م کہتے ہیں

    چلیں جی آپ بستر میں گھس کر صبح ورکشاپ کے مرحلہ اور اپنی گفتگو کے بارے میں سوچیں اور تب تک ہم آپ کی گفتگو کا انتظار کرتے ہیں۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. محمداسد کہتے ہیں

    شکریہ م بلال! میں کوشش کروں گا کہ انتظار کا یہ عرصہ زیادہ طویل نہ ہو.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. منیب جونئیر کہتے ہیں

    میں اپنی ویب سائٹ پر اردو کے بہترین بلاگ کا تعارف دینا چاہتا ہوں۔ اس لئے کئے دنوں سے روزانہ تھوڑا وقت نکال کر اردو بلاگ وزٹ کرتا ہوں۔ آج فرسٹ ٹائم آپ کا بلاگ پڑھا۔ “تین روزہ سوشل میڈیا ورکشاپ کا احوال” پڑھ کردل نے کہا کہ کاش مجھے بھی اس میڈیا ورک شاپ میں شامل ہونے کا موقع ملتا۔
    میں نے اپنی ویب سائٹ کے لئے 10 بہترین اردو بلاگ سلیکٹ کرنے ہیں۔ اس لئے اب تک میں 40 کے قریب بلاگ وزٹ کرچکا ہوں۔ آپ کا بلاگ بھی بہت اچھا لگاہے۔
    پہلے میں سمجھتا تھا کہ اردو بلاگ کون پڑھتا ہو گا۔ لیکن اردو بلاگ کو وزٹ کرنے پر مجھے اندازہ ہوا کہ بہت سے اردو بلاگرز بہت محنت سے اپنے بلاگ کو اپ ڈیٹ کرتے ہیں۔
    آپ کا بلاگ واقعی بہت اچھا ہے۔ اور یہ تیسرا بلاگ ہے جس پر میں نے کو منٹ کئے ہیں۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.