تین روزہ سوشل میڈیا ورکشاپ کا احوال (2)

(گزشتہ سے پیوستہ)

اگلی صبح تقریباً آٹھ بجے کیفے میں ہلکا پھلکا ناشتہ کیا اور پھر ورکشاپ ہال کی راہ لی۔ چند لوگ پہلے ہی وہاں موجود تھے اور کچھ بعد میں وہاں پہنچے جن میں نئے چہرے بھی نظر آئے۔ منظور علی اور اشرف الدین کی جوڑی، جن سے ہم گزشتہ رات ملاقات کر چکے تھے، 9 بجے کے بعد پہنچی۔ وجہ معلوم کی تو اشرف الدین نے بتایا کہ منظور علی کو کل رات بخار ہوگیا تھا۔ یہ بات تو بعد میں پتہ چلی کہ خود منظور علی کو اس کا علم نہیں تھا کہ انہیں کب بخار ہوا اور کب خودبخود اتر بھی گیا۔

بہرحال، ورکشاپ کے منتظم لالا حسن (پی پی ایف) نے باضابطہ آغاز کرتے ہوئے اپنا اور پی پی ایف کا مختصر تعارف کروایا۔ یوں ورکشاپ کی شروعات تو ہوگئی لیکن شرکاء کے تفصیلی تعارف کا اہم مرحلہ ابھی باقی تھا۔ اس کام کے لیے ہماری انسٹرکٹر سندس رشید نے بڑا دلچسپ طریقہ اپنایا۔ چونکہ پہلے روز ہر کوئی اپنی جان پہچان والے کے ساتھ بیٹھنے کو ترجیح دیتا ہے، اس لیے انہوں نے ہر دوسری نشست پر بیٹھنے والے کو اپنی نشست سامنے بیٹھے شخص سے تبدیل کرنے کا کہا۔ یوں وہ ترتیب جو شرکاء کی مرضی سے بنی تھی بالکل تبدیل ہوگئی۔ اب انہوں نے ورکشاپ کے تمام شرکاء کو کہا کہ وہ اپنے تعارف اپنے ساتھ بیٹھے ساتھی سے کروائیں اور پھر دونوں ایک دوسرے کے بارے میں باقی شرکاء کو بتائیں گے۔

مجھے ذاتی طور پر یہ طریقہ بہت پسند آیا۔ اس سے نہ صرف تمام شرکاء میں ہچکچاہٹ کا خاتمہ ہوا بلکہ ورکشاپ کا ماحول بھی خوشگوار ہوگیا۔ اسے حسن اتفاق کہیں کہ میرے ساتھ جو شخصیت بیٹھی، یعنی جس کا مجھے اور جس نے میرا تعارف کروانا تھا، وہ ہماری انسٹرکٹر سندس رشید ہی تھیں۔ پہلے میں نے ان سے کچھ سوالات کیے اور پھر انہوں نے میرے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ سندس رشید چونکہ ڈان گروپ کے سٹی ایف ایم 89 میں پروگرام منیجر ہیں، اس لیے میں نے ان سے یہ بھی پوچھا کہ ڈان نیوز (ٹی وی چینل) کی زبان انگریزی سے اردو کیوں ہوگئی؟ جواباً انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کے خیال میں انگریزی کے برعکس اردو چینلز کو عوام میں زیادہ پزیرائی حاصل ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں اردو کی اہمیت کو تسلیم کیا جارہا ہے۔

میں نے سندس رشید کو اپنا تعارف بطور اردو بلاگر کروایا اور کرک نامہ سے اپنی وابستگی کے بارے میں بھی بتایا۔ کمپیوٹر پر اردو لکھنے کے سوال پر میں نے انہیں پاک اردو انسٹالر کے متعلق بتایا کہ اب صرف ٹرانسلٹریشن یا انپیج نہیں بلکہ کسی بھی آپریٹنگ سسٹم کے کسی بھی سافٹ ویئر میں اردو براہ راست لکھی جاسکتی ہے۔ بعد ازاں انہوں نے شرکاء کو میرا تعارف کرواتے ہوئے بھی کرک نامہ کا جائزہ لینے کے لیے کہا۔

اس کے بعد سندس رشید نے سوشل میڈیا کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح سوشل میڈیا لوگوں کو ایک دوسرے سے قریب لانے، معلومات کی درست اور تیز تر فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر صحافی اپنے فیس بک، ٹویٹر اکاؤنٹ اور بلاگ کے ذریعے اپنی ذاتی جدگانہ حیثیت بناسکتے ہیں جو مستقل میں ان کے کام آسکتی ہے، مثال کے طور پر کوئی صحافی بڑی محنت سے کوئی تحقیق، خبر یا کوئی ویڈیو پیکیج بناتا ہے، لیکن اس کا چینل کسی وجہ سے اسے نشر نہیں کرتا یا زیادہ اہمیت نہیں دیتا تو وہ اسے اپنے بلاگ پر با آسانی رکھ سکتا ہے۔

جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ اکثر صحافی فیس بک سے تو واقف تھے لیکن ٹویٹر اور بلاگنگ کے بارے میں بہت کم جانتے تھے، اس لیے سب کو فیس بک، ٹویٹر، بلاگ اسپاٹ، پکاسا اور یوٹیوب پر اکاؤنٹ بنانے کا مکمل طریقہ بتایا گیا اور پھر ان کے فوائد و استعمال کے بارے میں بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس دوران انہوں نے میرا بلاگ بلاعنوان بھی شرکاء کو دکھایا۔ خوش قسمتی سے ان کے لیپ ٹاپ میں جمیل نوری نستعلیق موجود تھا، اس لیے بلاگ کافی اچھا نظر آیا۔ شاید سندس رشید کے ذہن میں اسے بطور نمونہ لے کر استعمال کرنے کا ارادہ ہوگا تاہم اس کے ڈاٹ کام ڈومین اور ورڈپریس پلیٹ فارم کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں تھا۔ وہاں موجود چند ساتھیوں نے پاک اردو انسٹالر اپنے لیپ ٹاپ میں انسٹال کیا اور پھر اردو لکھی تو انہیں خوشی کے ساتھ حیرت بھی ہوئی کہ جو کام انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے وہ تو حقیقت میں کوئی مسئلہ ہی نہیں۔

صحافی چاہے اخبار کے لیے کام کرتا ہو یا ٹیلی ویژن چینل کے لیے اس کا براہ راست تعلق خبر سے ہوتا ہے، اس لیے ورکشاپ میں خبر اور بلاگ میں مماثلت اور مختلف انداز مثلاً inverted pyramid، chronological اور narrative کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی۔ اگلے روز 300 الفاظ کا بلاگ لکھنے کے اسائنمنٹ کے ساتھ ورکشاپ کا پہلا دن اختتام پزیر ہوا۔ ورکشاپ کے دوران میں نے بھی اپنے انگریزی بلاگ کی بنیاد رکھ ہی دی لیکن مجھے خود علم نہیں کہ آیا میں اس پر کب اور کتنا لکھ سکوں گا۔

کمروں میں چونکہ انٹرنیٹ کام نہیں کر رہا تھا، اس لیے مچھروں اور دیگر اقسام کے کیڑے مکوڑوں کے باوجود وقت باہر گزارنا پڑا۔ شام کو کچھ دیر سستانے کے بعد سب مل کر چہل قدمی کے لیے نکلے لیکن عربین سی کنٹری کلب انتظامیہ کی طرف سے گالف کورس پر چلنے اور بیٹھنے پر پابندی کے باعث جلد ہی ہوٹل میں واپس آنا پڑا۔ کھانے سے قبل محبوب علی (جیو نیوز) نے صفدر داوڑ (روزنامہ ایکسپریس) سے اپنے علاقائی ڈانس کی فرمائش کی جو اس شرط پر پوری ہوئی کہ ورکشاپ کے دیگر شرکاء بھی کوئی گیت، غزل، لطیفہ سنائیں یا پھر ڈانس کریں۔

اس سلسلے کا آغاز میری ساتھی کولیگ شینا سومرو (پی پی ایف) کی گائیکی سے ہوا۔ پھر ہارون سراج (دی نیشن / ریڈیو پاکستان)، صفدر داوڑ (روزنامہ ایکسپریس)، محبوب علی (جیو نیوز)، عرفان اللہ (وائس آف امریکا)، وصی قریشی (انڈس ریڈیو)، شہزاد بلوچ (ایکسپریس ٹریبیون)، بلال فاروقی (روزنامہ آغاز)، راقم (پی پی ایف)، درشہوار چننا (پی پی ایف) اور اشرف الدین پیرزادہ (دی نیوز) کے بعد آخر میں سندس رشید نے بھی اس سلسلے میں حصہ لیا۔ پہلے تو میں نےاپنی باری آنے پر معذرت کرلی کہ مجھے سرے سے کوئی لطیفہ، نظم یا غزل یاد ہی نہیں جس پر مجھے 300 الفاظ (وہ بھی انگریزی میں) بلاگ لکھنے کی سزا سنائی گئی۔ اس سزا سے بچنے کے لیے میں نے موبائل غزل 'کہانی درد کی میں زندگی سے کیا کہتا' ہی پیش کرنے میں خیر سمجھی۔ اس کے ساتھ ہی کھانے کا وقت ہوگیا اور ہم کھانا کھا کر کمرے میں چلے گئے۔ لیکن مسئلہ وہی کہ کمرے میں انٹرنیٹ ہی موجود نہیں اور اس کے بغیر گزارہ بھی نہیں۔ اس وجہ سے کمرے سے باہر نکل کر اور ہال میں پہنچا تو پتہ چلا کچھ اور ساتھی پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔ وہاں بیٹھ کر مزید گپ شپ کی اور کچھ بلاگ اسائنمنٹ پر بھی کام کیا۔ اس دوران ہمارے ایک اور ساتھی عدنان رشید ہوٹل پہنچے جنہیں میرا روم میٹ بنا دیا گیا۔ عدنان رشید سے تعارف کے بعد ہم پھر بستر میں گھس گئے۔

(اگلا حصہ)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کیجیے

@اسد! مصروفیت کم اور کاہلی زیادہ 😈

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

@علی عامر: بہت شکریہ علی عامر 🙂

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

سادہ پیرائے میں سوشل میڈیا ورکشاپ کا احوال پڑھتے ۔ ۔ ۔ ۔ ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے میں بھی اسی ورکشاپ میں شامل ہوں۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

شاید میرے لئے دلچسپی اس لئے بھی ہے ایک تو صحافت سے کچھ لگاؤ ہے اور اوپر سے بلاگنگ کی باتیں ہیں۔ مجھے تو یہ سب پڑھ کر اچھا لگ رہا ہے۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

@م بلال م: دراصل میں مصروفیات (اور کچھ ا کاہلی :smile:) کے باعث بلاگ لکھ نہیں پارہا تھا. اس بار سوچا کہ ورکشاپ سے ملنے والی تحریک کو استعمال کرتے ہوئے بلاعنوان کو ایک بار پھر زندہ کیا جائے.

میرے خیال میں عمومی طور پر بلاگ کا یہ سلسلہ دوسروں کی دلچسپی حاصل نہ کرسکے گا. اس کے باوجود آپ کی دلچسپی اور تبصرے میرے لیے باعث مسرت ہیں.

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

@محمداسد: جی بہتر۔ کسی کا تو پتہ نہیں لیکن مجھے یہ سب پڑھ کر اچھا لگ رہا ہے اور مزید کا انتظار ہے۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

@م بلال م: دراصل ورکشاپ کے دورانیہ کو دیکھتے ہوئے سوشل میڈیا کے حوالے سے جو پروگرام ترتیب دیا گیا تھا اس میں صرف بلاگ اسپاٹ کا احاطہ کیا جانا تھا. اس لیے ورڈپریس یا دیگر پلیٹ فارم سے دور دور ہی رہنا زیادہ مناسب خیال کیا گیا کہ کہیں اسے سمجھانے کے چکر میں اصل مقصد سے دور نہ ہوجائیں. یہی معاملہ ڈاٹ کام کے ساتھ بھی تھا، اس لیے آسان ترین بلاگ اسپاٹ کا سب ڈومین ہی استعمال کیا گیا.

ویسے ہمارے چند ایک صحافی ساتھی اپنی ڈاٹ کام ویب سائٹ کے بھی 'مالک' ہیں لیکن اس کے باوجود تکنیکی و غیر تکنیکی طور پر وہ سائٹ کوئی دوسرا چلاتا ہے. مثلآ جیو نیوز کے صحافی محبوب علی zamungswat.com اور ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے صدر صفدر داوڑ tuj.com.pk سے بھی منسلک ہیں لیکن یہ سائٹس بھی کوئی اور چلاتا ہے.

ہاں، ہمارے ایک ساتھی اللہ بخش اریسر جو abarisar.com بھی چلاتے ہیں اور ایکسپریس ٹریبیون کے منظور علی اس اعتبار سے کافی کچھ جانتے ہیں. اول الذکر دو ساتھیوں نے اپنی ویب سائٹ کے لیے مجھ سے مشورے مانگے، لیکن افسوس کہ مصروفیت نے مجھے مہلت نہ دی.

آئندہ روز ایکسپریس ٹریبیون اور ڈان ڈاٹ کام کی وزیٹنگ فکلٹی کے سامنے بھی اردو بلاگنگ کا کچھ تعارف پیش کیا. اس کی بابت بھی ان شاء اللہ جلد لکھوں گا.

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

پڑھ کر اچھا لگ رہا ہے. باقی چھٹے پہرے میں ان الفاظ کی کچھ سمجھ نہیں
“شاید سندس رشید کے ذہن میں اسے بطور نمونہ لے کر استعمال کرنے کا ارادہ ہوگا تاہم اس کے ڈاٹ کام ڈومین اور ورڈپریس پلیٹ فارم کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں تھا۔”
میں نے سیاق و سباق کے مطابق سمجھنے کی کوشش کی لیکن سمجھ نہیں سکا۔ ہو سکے تو تھوڑی وضاحت کر دیجئے۔
باقی آج پھر آپ بستر میں گھس گئے اور ہمیں اگلی قسط کے انتظار میں لگا گئے۔ خیر اگلی قسط کا انتظار رہے گا۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب