تین روزہ سوشل میڈیا ورکشاپ کا احوال (3)

4

(گزشتہ سے پیوستہ)

ورکشاپ کا دوسرا روز بڑا اہم اور دلچسپ تھا کیوں اس دن پینل ڈسکشن میں ایکسپریس ٹریبیون کے مدیران جہانزیب حق اور فاریہ سید کے ساتھ ساتھ ڈان ڈاٹ کام کی سمیرا ججہ نے بھی حصہ لیا۔ ان کے علاوہ سوشل میڈیا کی دو معروف شخصیات عواب علوی اور فیصل کپاڈیا کو بھی شریک محفل ہونا تھا تاہم وہ اندرون سندھ متاثرین سیلاب کے لیے امدادی کاموں میں مصروفیت کے باعث شرکت نہ کرسکے۔

مہمانوں سے شرکاء اور شرکاء سے مہمانوں کے مختصر تعارف کے بعد گفتگو کا سلسلہ جہانزیب حق سے شروع ہوا جنہوں نے روایتی انداز میں پہلے اپنے اخبار کی خوبیاں بیان کیں اور پھر انٹرنیٹ پر ایکسپریس ٹریبیون کو دیگر اخبارات پر قارئین کے اعتبار سے حاصل سبقت کا ذکر کیا۔ ورکشاپ کے موضوع سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلاگ ایک ایسی جگہ ہے کہ جہاں کسی بھی صحافی یا دیگر پیشے سے وابستہ افراد کو ذاتی مواد رکھنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ بلاگ کی مثال پیش کرتے ہوئے جہانزیب حق نے کیفے پیالا اور پاک میڈیا کا بطور معروف پاکستانی بلاگز حوالہ بھی دیا۔

جہانزیب حق نے بلاگ کو انفرادی حیثیت قائم کرنے اور کیرئیر کے فروغ یعنی پیشے میں ترقی حاصل کرنے کا بھی اہم ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے ایسے بلاگز کے بارے میں بھی بتایا جن کے مصنفین خود کا ظاہر کیے بغیر لکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ کافی مشہور ہوچکے ہیں۔ جہانزیب حق نے بلاگ کے ایک اہم پہلو کا ذکر کرتے ہوئے مثال دی کہ اگر ایک فوٹوگرافر کسی واقعہ یا جگہ کی دسیوں تصاویر لیتا ہے تو بھی اس کا اخبار زیادہ سے زیادہ ایک یا دو تصویر ہی لگائے گا اور اگر ٹی وی چینل ہے تو وہ بھی مخصوص وقت تک کا سلائیڈ شو لگائیں گے لیکن چونکہ بلاگز میں اس قسم کی کوئی پابندی نہیں، اس لیے آپ جتنی چاہیں اور جیسے چاہیں تصاویر باآسانی شائع کرسکتے ہیں۔

ایکسپریس ٹریبیون ہی سے تعلق رکھنے والی فاریہ سید نے بھی بلاگ کی افادیت پر روشنی ڈالی اور ذرائع ابلاغ اورآن لائن میڈیا کے فرق کو بہت اچھے طریقے سے واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینلز اور دیگر الیکٹرانک میڈیا میں آپ کو مخصوص ٹائم جبکہ پرنٹ میڈیا میں مخصوص جگہ تک محدود رہنا ہوتا ہے جس سے اکثر اوقات خبر یا فیچر کی افادیت ختم بھی ہوجاتی ہے۔ اس کے برعکس ویب پر آپ کو نہ صرف وقت اور جگہ کی آزادی دیتا ہے بلکہ بذریعہ قلم، آواز اور تصویر کے بیک وقت تمام تر سہولیات فراہم کرتا ہے۔ فاریہ نے ایک دلچسپ بات یہ کہی کہ عام طور پر اچھی خبر وہ سمجھی جاتی ہے جو عالمی سطح پر دلچسپی کی حامل جبکہ بلاگ میں زیادہ دلچسپی کا حامل وہ مواد ہوتا ہے جو مکمل تحقیق اور تصدیق کے بعد زمینی حقائق کو بیان کرے۔ مثلاً اگر ہم بلوچستان کی بات کریں تو اس موضوع پر جتنا اچھا بلاگ بلوچستان میں رہنے والا چلا سکتا ہے، اتنا کراچی، کسی اور شہر یا ملک کے بلاگر کے لیے ممکن نہیں ہے۔

فاریہ سید کی اس بات پر میں نے سوال کیا کہ اگر بلاگز کی دلچسپی کا معیار یہی ہے کہ اپنا مدعہ زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے درست انداز میں بیان کیا جائے تو کیا یہ بہتر نہیں کہ لکھنے والا ایسی زبان میں بلاگنگ کرے کہ جس سے وہ اور اس کا مخاطب مکمل واقف ہو ناکہ ایسی زبان میں کہ جو اس کے لیے اجنبی ہو۔ مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ گھریلو مسائل پر گھر کی خواتین اور کاروباری مسائل پر مرد حضرات یا کسی اور ملکی سیاسی و غیر سیاسی صورتحال پر اپنی مادری زبان میں زیادہ بہتر انداز سے تبادلہ خیال کیا جاسکتا ہے نا کہ انگریزی میں۔ فاریہ سید نے میرے نکتہ کی تائید کرتے اردو بلاگرز کی بڑھتی ہوئی تعداد کو سراہا جس کی جہانزیب حق نے بھی تائید کی۔

یہاں جہانزیب حق کی جانب سے اردو لکھنے میں مشکلات، فانٹس اور کی بورڈ کا ذکر ہوا تو میں نے پھر پاک اردو انسٹالر کا حوالہ دیا۔ یہ بات بڑی ہی عجیب محسوس ہوئی کہ خود کو سیکنڈوں کے اعتبار سے اپڈیٹ رکھنے والے لوگ اب بھی ‘اردو’ لکھنے اور پڑھنے کو مشکل خیال کرتے ہیں۔ بہرحال! جب مہمان کچھ مطمئن نظر آئے تو میں نے موقع غنیمت جانتے ہوئے جہانزیب حق سے انگریزی ایکسپریس ٹریبیون کی طرح اردو روزنامہ ایکسپریس میں بھی ایک مخصوص حصہ بلاگز کے لیے وقف کرنے کی فرمائش کر دی جس پر جہانزیب نے کہا کہ آپ آئندہ چھ ماہ میں اس سے متعلق کافی پیش رفت دیکھ سکیں گے۔

ڈان ڈاٹ کام کی مدیر سمیرا ججہ بلاگنگ اور آن لائن ذرائع ابلاغ کے بارے میں بہت سرگرم نظر آئیں۔ انہوں نے صحافیوں کو عام اخبار سے زیادہ آن لائن مضامین شائع کروانے کو ترجیح دینے کا کہا۔ سمیرا ججہ نے کہا کہ آن لائن پڑھنے، سننے اور دیکھنے والے کا فوری ردعمل حاصل کیا جاسکتا ہے جس سے مستقبل میں کام کرنے کے لیے نئے اور بہتر طریقے بھی سامنے آتے ہیں۔ اس لیے ہر ادارے کو چاہیے کہ وہ آن لائن موجودگی کو یقینی بنائے۔ انہوں نے وہاں موجود کئی صحافیوں سے بھی اخبار اور آن لائن کی افادیت پر بات چیت کی اور انہیں اپنی ویب سائٹ کے لیے بلاگنگ کرنے پر اصرار کیا۔

گفتگو کے دوران جہانزیب حق نے بتایا کہ عام طور پر بھی اگر ایکسپریس ٹریبیون 50 ہزار کی تعداد میں چھپتا ہے تو اس کی ویب سائٹ پر 70 ہزار وزٹ ہوتے ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ اخبار یا ٹی وی سے زیادہ لوگ انٹرنیٹ اور آن لائن خبروں کے حصول میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت والے روز ایکسپریس ٹریبیون پر کئی گنا زیادہ لوگوں نے وزٹ کیا جو ایک اندازے کے مطابق 2 لاکھ کی تعداد بنتی ہے۔ کچھ یہی صورتحال ڈان اخبار کے ساتھ بھی رہی جسے اس روز عام دنوں سے 35 فیصد زیادہ حاضرین کی طرف سے دیکھا گیا۔

(جاری ہے)

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

4 تبصرے

  1. م بلال م کہتے ہیں

    اس میں تو کوئی شک نہیں کہ انٹرنیٹ پر لکھنا، پرنٹ میڈیا سے زیادہ اچھا ہے۔ قارئین کے فوری تبصرے بھی بندے کو کافی کچھ سیکھاتے ہیں۔ سوچ وسیع ہوتی ہے اور تحریر میں مزید پختدگی آتی ہے۔
    ویسے وہ بھی کیا دن تھے، جب ایسی تحاریر پر تبصروں کے انبار ہوتے تھے۔ دوست احباب بے شمار مشورے دیتے تھے۔ اب تو جب تک تحریر میں کسی کو رگڑا نہ لگاؤ کوئی پڑھتا ہی نہیں۔
    ہو سکتا ہے لوگوں کے لئے یہ تحریر کسی کام کی نہ ہو لیکن مجھے اس کا انتظار تھا اور مزید کا رہے گا۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. محمداسد کہتے ہیں

    @م بلال م: شکریہ بلال. اور تبصروں کے متعلق تو کیا کہہ سکتے ہیں. شاید ملکی حالات کے باعث اب لوگ مرچ مصالحہ ہی پسند کرنے لگے ہیں.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. Arif Ali کہتے ہیں

    i just found you blog i am so happy a fully urdu website thanks you very much

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. arman کہتے ہیں

    aap ki web site achi hai, thanks

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.