اسپوٹ فکسنگ اسکینڈل

معلوم نہیں ہمارے اندر جلد بازی روز اول ہی سے موجود ہے یا پھر چاروں طرف بگڑتے حالات کی سنگینی نے اسے دیگر برائیوں مثلاَ بے صبری، غیر منصفانہ سوچ اور شدت پسندی وغیرہ کے ساتھ ہماری رگوں میں داخل کردیا ہے جو وقفہ وقفہ سے ہمیں اپنے ہاتھوں ہی نقصان پہنچانے کے سوا کچھ نہیں کرتی۔ اس کی حالیہ مثال پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں پر میچ فکسنگ اور اسپوٹ فکسنگ کے الزامات اور اس پر پاکستانیوں کا شدید ردعمل ہیں۔ تصویر کا ایک رخ دیکھ کر ہم نے جس تیزی سے نتائج اور کھلاڑیوں کے لیے سزا تجویز کرنی شروع کردی وہ کسی بھی باشعور اور انصاف پسند معاشرے کی پہچان نہیں۔

کھلاڑیوں کا موقف سنے بغیر صدر کا ازخود نوٹس اور وزیر اعظم سمیت دیگر شرفاء کا سر شرم سے جھک جانا بھی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم ہر اس الزام کو صدق دل سے قبول کر چکے ہیں جو سات سمندر پار کسی اخبار نے اپنے ثبوت بنا کر چھاپ ڈالا۔ کیا ہی بہتر ہو کہ ہم اس کہانی کے مرکزی کردار مظہر مجید (بکی) کی ہر بات من و عن تسلیم کرنے کے بجائے، تحقیقات کے اختتام پر کوئی فیصلہ صادر کریں۔ کیونکہ اس کہانی کے حقیقت پر مبنی ہونے کے جتنا امکان موجود ہے اتنا ہی اس کے پیچھے سازشی نظریات ہونے کا امکان بھی ہے۔ اس پوری کہانی کے چند پہلو ایسے بھی ہے جو خود اس رپورٹ کے شائع کرنے والے جریدہ "نیوز آف دی ورلڈ" کے حق میں نہیں جاتے۔ اور پیش کیے جانے والے شواہد کئی قسم کے جھول ہونے کے باعث پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف کسی بڑی کاروائی کے لیے بھی ناکافی ہیں۔

News of the World کا ماضیٔ قریب

برطانیہ کا یہ ہفت روزہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے انگریزی اخبارات میں دوسرے پر آتا ہے۔ شاید اس کی وجہ اس کا اسکینڈلز اور بریکننگ نیوز سے بھرپور ہونا ہے۔ یہ اخبار مختلف غلط اور صحیح مصالحہ دار خبروں کا مجمع بنا کر انسان کے فطری تجسس کو کچھ وقت کے لیے لطف فراہم کردیتا ہے لیکن بعد ازاں اپنے کیے کی سزا بھی خوب پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ پڑھے جانے کے اخبارات کی فہرست میں ہونے کے باوجود نیوز آف دی ورلڈ دیگر برطانوی اخبارات کے مقابلہ میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے نہ اسے قابل اعتمار سمجھا جاتا ہے۔ اخبار کے ماضیٴ قریب میں کی جانے والی انویسٹیگیٹو رپورٹس اور ان کے نتائج کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

  • 2005ء میں مشہور انگلش فٹ بالر ڈیوڈ بیکھم اور ان کی اہلیہ نے اس ہفت روزہ جریدہ میں ایک مضمون کی اشاعت پر ہتک عزت کا کیس کردیا جس پر اس اخبار کو سخت خفت اٹھانی پڑی۔
  • 2006ء میں ایک اور انگلش فٹ بالر وائن رونی نے اخبار پر اس وقت کیس کردیا جب اس نے ان کے اپنی منگیتر سے خراب تعلقات پر غلط رپورٹ شائع کی جس کا خمیازہ اخبار کو ایک ایک لاکھ پونڈ کی صورت میں بھگتنا پڑا۔
  • 2006ء ہی میں اخبار کو اس وقت اپنی غیر صحافتی سرگرمیوں کی سزا بھگتنا پڑی جب انگلش فٹ بالر ایشلے کول کے جنسی اسکینڈل کے متعلق رپورٹ کو درست ثابت نہ کرسکا اور اخبار انتظامیہ کو ایک لاکھ پونڈ کے عوض معاملہ طے کرنا پڑے۔
  • 2006ء میں اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے سیاستدان ٹومی شریڈن کے جنسی اسکینڈل کی اشاعت کے بعد اخبار کو ایک بار پھر تادیبی عدالتی کاروائی کا سامنا کرنا پڑا جہاں اسے دو لاکھ پونڈ جرمانہ اور تاریخی شکست ہوئی۔
  • 2008ء میں FIA کے سابق سربراہ میکس موسلی کی نجی زندگی کی فلم بنانے اور اسے نیوز آف دی ورلڈ کی ویب سائٹ پر شائع کرنے کی سزا کے طور پر 5 لاکھ پونڈ سے زائد جرمانہ بھرنا پڑا۔
  • اس اخبار کو رواں سال کے اوائل میں مشہور ہالی وڈ اداکار جوڑی بریڈپٹ اور انجلینا جولی کی علیحدگی کی پیشن گوئی پر بھی سخت قانونی چارہ جوئی کے بعد گھٹنے ٹیکنے پڑے یوں معاملہ معذرت کی اشاعت اور ایک بڑی رقم بطور ہرجانہ کے طور پر ادا کرنے پر ختم ہوا۔

کسی عالمی اخبار کا غلطیوں، اعتراف اور جرمانہ سے بھرپور ماضیٔ قریب کی یہ چند مثالیں نیوز آف دی ورلڈ کو کسی حد ناقابل اعتبار تسلیم کرنے کے لیے کافی ہیں۔ ماضی کی طرح نیوز آف دی ورلڈ کے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے خلاف حالیہ الزامات بھی دیگر رپورٹس کی طرح بوگس بھی ہوسکتے ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ جلد بازی میں کسی بھی قسم کا قدم اٹھانے سے قبل غیر جانبدار ذرائع سے معاملہ کی تحقیقات کرائی جائیں نا کہ برق رفتاری سے اس غیر مستند جریدہ کی خبروں پر ایمان لے آئیں۔

ویڈیو اور رپورٹ سے متعلق ضروری سوالات

اگر اس ناقابل بھروسہ جریدہ کی تھوڑی بہت عزت رکھتے ہوئے اس کی رپورٹ کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو یہ انویسٹیگیٹو رپورٹ بہت سے سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہے۔ جو حقیقت میں اس کی صحت پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

  • پہلا سوال: ویڈیو کس تاریخ کو ریکارڈ کی گئی؟

نیوز آف دی ورلڈ کے مطابق ویب سائٹ کے صفحہ پر موجود ویڈیو کی ریکارڈنگ 25 اگست 2010ء کو اس وقت کی گئی جب انگلینڈ اور پاکستان کے مابین آخری ٹیسٹ میچ شروع نہیں ہوا تھا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ جریدہ کے کیمرے کی ریکارڈنگ میں نہ تو تاریخ درج ہے اور نہ ہی کوئی ایسا ثبوت موجود ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ ویڈیو واقعی 25 اگست یعنی میچ سے قبل ہی بنائی گئی ہو۔ اس طرح کے حساس معاملات میں امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ ویڈیو ٹیسٹ میچ کے دو دن گزرنے (جب تمام اوورز مکمل ہوچکے تھے) 28 اگست کے بعد بنائی گئی ہو تبھی وہ میچ کے دوسرے یا تیسرے دن کے بجائے اختتامی گھنٹوں میں شائع کی گئی۔ جب خود ویڈیو کی اشاعت مشکوک ہو تو اس میں شامل مندرجات پر بحث ہی کیا۔

  • دوسرا سوال: مظہر مجید تجربکار جواری ہے یا سٹے باز اناڑی؟

جریدے کی جانب سے ویب سائٹ پر جاری ہونے والی ویڈیو میں رپورٹر مظہر مجید کو 140,000 پونڈ پچاس پچاس کے کرنسی نوٹوں کی صورت میں دے رہا ہے۔ یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ آج کے کاروباری حضرات (قانونی و غیر قانونی) نقد لین دین سے زیادہ کریڈٹ کارڈ یا پھر بینک چیک کا استعمال کرتے ہیں۔ ایسے میں مظہر مجید، جو کہ سٹے بازی میں سات سال کا تجربہ ہونے کا دعویٰ دار ہے کس طرح ایک شخص پر محض چار دن ملاقات کرکے مکمل بھروسا کرسکتا ہے نیز اس سے ایک لاکھ چالیس ہزار پونڈ اتنی ساری گڈیوں میں وصول کرسکتا ہے؟ اب اس کا جواب یا تو اس کے اناڑی ہونے کی صورت میں ہے یا پھر کچھ اور چکر ہے! جبکہ ویڈیو میں وہ نہ صرف گڈیاں وصول کررہا ہے بلکہ خاص پوز دے کر کیمرہ میں ان کی تعداد بھی ریکارڈ کروارہا ہے۔ یہ چیز بھی اس ویڈیو کی صحت پر شک پیدا کرتی ہے۔

  • تیسرا سوال: ویب سائٹ پر موجود گروپ فوٹو کب اور کہاں کی ہے؟

نیوز آف دی ورلڈ کی اس بریکنگ نیوز کے صفحہ پر موجود تمام تصاویر کے ساتھ مختلف کیپشن دیے گئے ہیں۔ لیکن ایک تصویر جس میں پاکستان کی موجودہ ٹیسٹ ٹیم کے کپتان سلمان بٹ اور مظہر مجید کے ہمراہ "اپنے آدمی" کو دکھایا گیا ہے جبکہ نیچے کسی قسم کا کوئی کیپشن موجود نہیں۔ اور نہ ہی پورے صفحہ پر اس سے متعلق کوئی تفصیل موجود ہے۔ لہٰذا اس دعویٰ کی تصدیق بھی درکار ہے کہ آیا مظہر مجید واقعی سلمان بٹ سے کبھی ملا بھی ہے یا یہ صرف ایک اخبار کی طرف سے چھوڑا جانے والا ایک مفروضہ ہے۔ آج کل جدید ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کے استعمال سے یہ کام بالکل آسان ہوگیا ہے کہ آپ کسی کھڑے کو بٹھا سکیں اور بیٹھے ہوئے کو کھڑا کرسکیں۔ لہٰذا اس تصویر کی اصل جاننے کے لیے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ تصویر کہاں اور کب لی گئی نیز مضمون سے اس کا تعلق کس طرح بنتا ہے؟

PCB اور ICC کے واچ ڈاگز؟

دورہ آسٹریلیا میں شرم ناک شکست کے بعد ہی ٹیم میں گروہ بندی اور میچ فکسنگ کے الزامات سامنے آنا شروع ہوگئے تھے۔ جس پر PCB اور ICC نے دو مختلف تحقیقاتی کمیٹیاں بنائیں اور چند ضروری اقدامات بھی کیے۔ لیکن قانونی اقدامات کے علاوہ دونوں اداروں نے کھلاڑیوں کی نگرانی شروع کی تھی۔ پی سی بی تو چلیے ٹہرا دیسی ادارہ، لیکن آئی سی سی جس نے پاکستانی کھلاڑیوں خصوصاَ سلمان بٹ اور کامران اکمل کی کڑی نگرانی شروع کر رکھی تھی، وہ بھی کھلاڑیوں کی مظہر مجید سے ملاقاتوں اور دیگر ساری کاروائی سے کیسے بے خبر رہ سکتی ہے؟ جبکہ ویڈیو ریکارڈنگ میں مظہر مجید کے بقول گذشتہ سیریز اور موجودہ سیریز کے 7 کھلاڑیوں سے اس کے رابطہ ہیں اور وہ ان سے ملتا رہا ہے۔ اگر اس کی تمام باتوں میں صداقت ہے تو آئی سی سی کو سب سے پہلے یہ پتا کرنا چاہیے کہ ان کے "واچ ڈاگز" کہاں سوئے ہوئے تھے؟

آخر میں ۔ ۔ ۔

یہ وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ اس تحریر کا مقصد پاکستانی کرکٹ ٹیم اور بورڈ میں موجود کرپٹ عناصر کا دفاع کرنا ہر گز نہیں۔ اس کا مقصد ایک غیر ملکی جریدہ کی نو بال سے شروع ہونے والے معاملہ کو میچ فکسنگ اور دوسرے سنگین جرائم سے جوڑنےاور سزا کی تجاویز فراہم کرنے کے آگے اس وقت تک بند باندھنا ہے جب تک معاملہ کی تحقیقات مکمل نہیں ہوجاتیں۔ الزامات ثات ہونے سے قبل، تصویر کا ایک رخ دیکھتے ہوئے ملزم کھلاڑیوں کو دفاع کا موقع فراہم کیے بغیر خودساختہ سزا سنا دینا کسی طور انصاف نہیں کہلاتا۔ اگر ہم اس نازک و پیچیدہ معاملہ کو ٹھیک طریقہ سے سنبھال کر درست اور منصفانہ نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے تو بہتر ہے کہ مزید وقت ضائع کیے بغیر پاکستان کرکٹ کو یہیں دفن کردیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

22 تبصرے

  1. اظہرالحق نے کہا:

    بہت خوب تجزیہ ہے ، اور دیانتدارنہ بھی ہے ، مگر ایک بات سچ ہے کہ ہمارے کھلاڑی اور وہ سب لوگ جنکے اختیار میں کچھ بھی ہے وہ دولت کو دین ایمان سمجھتے ہیں ، انہیں وطن پرستی چھو کر بھی نہیں گزری ۔ ۔۔ اور یہ اصل وجہ ہے جو ہر کوئی اٹھ کرکسی بھی پاکستانی پر کوئی بھی الزام لگا دیتا ہے ۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. آپ کی بات ٹھیک ہے کہ ہمارے صدر اور وزیراعظم کو تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ایسے بیانات نہیں دینے چاہئیں تھے. آپ کے تمام نقاط وزن رکھتے ہیں مگر کیا کیا جائے وہی آپ والی بات ہے کہ ہم لوگوں کی عادت بن چکی ہے کہ دنوں میں امیر ہونا ہے. اللہ کرے یہ سارے الزام غلط ثابت ہوں. ہمیں سب سے زیادہ فکر عامر کی ہے جس نے ابھی اپنا کیریئر سٹارٹ کیا ہے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. جعفر نے کہا:

    اور نوٹس لیا کس نے ہے؟
    صدر پاکستان نے !۔۔۔
    در شاباش۔۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. کاشف نصیر نے کہا:

    یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے پھر کرکٹ ٹیم ہی کیوں؟ اور گیلانی صاحب کا سر بھی بڑا انوکھا ہے جو کرکڑز کی مبینہ سٹہ بازیوں سے تو جھک گیا لیکن زرادری صاحب اور انکے ہم رائیوں کے سیر سپاٹے سے نہیں جھکتا، جالی کیمپ کے دورے کر کے نہیں جھکتا اور سزا یافتہ مجرموں کو وزیر بناکر بھی نہیں جھوکتا.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. نغمہ سحرِ نے کہا:

    یہ اتنا بھونڈا ناٹک ہے کے اس کو دیکھنے کو بھی دل نہیں کر تا
    نے News of the World
    تو ہمارے میڈیا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اگر پاکستان میں بھی برطانیہ جیسے قانون ہوتے تو ہمارے میڈیا کا کیا حشر ہوتا .

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. عالم نے کہا:

    تجزیہ آپ کا بالکل بجا ہے۔ ہم اخلاقی طور پر اتنے گرے ہوئے ہیں کہ الزام لگتے ہیں خود کو قصوروار سمجھنے لگتے ہیں۔ لیکن آپ کی رپورٹ میں بھی مجھے کچھ خامیاں نظر آئیں۔
    مثلاً آپ نے اخبار کی فلاپ رپورٹس کا ذکر کیا لیکن انھوں نے کامیابی سے جو راز فاش کیے ان کا ذکر نہیں کیا۔
    دوسری بات یہ کہ آپ کو وہ وڈیو بھی دیکھنا چاہیے تھا جس میں مظہر مجید اسی رپورٹر سے پیسے لے کر وہاب ریاض کو دے رہا ہے، عمر امین بھی جس کے ساتھ ہے۔
    ویسے اس طرح کے لین دین کیش کی صورت میں ہی زیادہ بہتر لگتے ہیں۔ آپ کو کوئی چیک تھما دے تو اس کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ کیش بھی ہو جائے گا؟ یہ کوئی آن لائن بیٹنگ تو نہیں ہے جس میں کارڈ وغیرہ استعمال ہوتا۔
    بہرحال آپ کو اپنے تحقیقی مقالے میں ان چیزوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔
    والسلام

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. محمداسد نے کہا:

    @ عالم
    بلاگ پر خوش آمدید.
    پہلی بات تو یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ یہ تو ناچیز کے خیالات پر مبنی صرف ایک تحریر ہے اس لیے اس پر تحقیقی مقالے کا بوجھ نا ڈالیے.

    عالم صاحب نیوز آف دی ورلڈ نے یقیناَ کامیاب راز بھی افشاء کیے، لیکن ان کی حیثیت ثانوی نوعیت ہی کی رہی. مثلاَ ان کی کامیاب رپورٹس میں شاید ہی کوئی اس قابل موجود ہو جو عالمی معیار میں ایسی ہل چل مچا سکے جو ان کی دیگر مبالغہ آرائی پر مبنی رپورٹس نے مچائی. اس کے علاوہ اور بھی بہت سے ایسے اخبارات ہیں جو اس قسم کی انویسٹیگیٹو رپورٹس شائع کرتے ہیں لیکن نیوز آف دی ویوز کا ترہ امتیاز رہا ہے کہ جریدہ کی زیادہ سیل کی خاطر رائی کا پہاڑ بنا کر پیش کیا جائے بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی.
    دوسری ویڈیو کا جو آپ نے ذکر کیا اس میں مظہر مجید وہاب ریاض کو پیسے نہیں بلکہ جیکٹ دے رہا ہے. ویڈیو سے یہ بات بالکل بھی واضح نہیں کہ آیا جیکٹ میں پیسے ہیں یا انہیں نکال کر الگ رکھ لیا گیا ہے. اس کے علاوہ دیگر ساتھیوں نے گاڑی میں موجود مظہر مجید (بکی) اور کھلاڑیوں کے ساتھ موجود مظہر مجید (بکی) کی شرٹ کا رنگ تبدیل ہونے کی بھی نشاندہی کی ہے. لہٰذا میں پہلی والی ویڈیو کی طرح اسے بھی ناقابل اعتبار ہی گردانوں گا چا جائیکہ تحقیقات مکمل نہ ہوجائیں۔
    میرا نہیں خیال کہ جہاں ہزاروں کی کاروباری سودوں کے لیے چیک استعمال کیے جاتے ہیں، وہاں لاکھوں کی ڈیلنگ آج بھی نقد رقم اور وہ بھی پچاس پچاس کے کرنسی نوٹ والی گڈیوں کی شکل میں ہوسکتی ہے. اس طرح کا کام تو ہالی ووڈ کی فلموں میں بھی نہ دیکھا اور نہ سنا.
    یہ بات مشہور ہے کہ بے ایمانی کے کاموں میں سب سے زیادہ ایمانداری ہوتی ہے. شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں سٹے باز صرف فون کالز پر ایک دوسرے پر بھروسہ کر کے اس کھیل میں حصہ لیتے ہیں. ایسے میں ایک تجربکار بکی ہونے کے ناطے مظہر مجید قابل بھروسہ ڈیلر سے پیسہ وصول کرنے کا کوئی اور طریقہ مثلا پراپرٹی یا گاڑی لیکر بھی اختیار کرسکتا تھا. لیکن اس کا ایک لاکھ پونڈ سے زائد کیش رقم لینا بذات خود اس کے تجربار ہونے کے قول پر سوالیہ نشان ہے.

    آخر میں یہ خبر بھی ملاحظہ کیجیے کہ مظہر مجید کو اسکاٹ لینڈ یارڈ نے فررد جرم عائد کرے بغیر ہی ضمانت پر رہا کردیا. دیکھیے آگے کیا ہوتا ہے ۔ ۔ ۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  8. اسد بھائی آپ کا بلاگ شام کو کسی اور لنک پر ری ڈائریکٹ ہو رہا تھا، جہاں تک میرا خیال ہے ہمارے لوگوں کا رد عمل بہت شدید ہوتا ہے۔ ہم میں سے کسی کو یقین نہیں کہ یہ الزامات سچ ہیں یا ان کے پیچھے کوئی اور امر کارفرما ہے۔ اگر ہم انگلینڈ میں‌اپنی ٹیم کے دوروں کی تاریخ دیکھیں تو وہ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہو گی۔ آسٹریلین امپائر ڈیرل ہیر کا جھگڑا ہو یا ثقلین مشتاق کی بالنگ پر تھرو کا الزام، شعیب اختر پر بال ٹمپرنگ کا الزام ہو یا ڈبلیوز کی جوڑی پر بال ٹمپرنگ کا الزام۔۔۔ گوری قوم پاکستانی ٹیم کو ذلیل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ ایک پرانی کہانی بھی ہے، کہ دنیا بھیڑ چال ہے۔ جس طرف ایک بھیڑ گئی سبھی بھیڑیں اسی کے پیچھے جائیں گی۔

    جس طرح کا یہ رد عمل پاکستانیوں کی طرف سے آیا ہے ، گالیاں ، الزامات، نفرت انگیز تبصرے، مجھے یہ کہنے میں‌کوئی عار نہیں، کہ یہ سو فیصد اسی رد عمل کی طرح ہے جس طرح کا رد عمل سیالکوٹ میں دو بھائیوں کو ایک آدمی کی طرف سے چور ڈاکو قرار دینے پر وہاں کی پبلک کی طرف سے آیا۔ سب نے یہی کہا، مار دو ان کو، یہ ڈاکو ہیں، کوئی کہتا ہے سر پر مارو، کوئی کہتا ہے اسکو ٹھڈا مارو، کوئی کہتا ہے اسکو جلا دو، کوئی کہتا ہے الٹا لٹکا کر مارو، کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ ہو سکتا ہے یہ ڈاکو نہ ہوں ، اور کہنے والا جھوٹ بول رہا ہو، کسی نے یہ نہیں سوچا، جس نے ڈاکو کہا اس کی کریڈیبلٹی کیا ہے، وہ کوئی جھوٹا مکار فریبی غنڈا ہے یا کوئی نیک سیرت انسان جس کی بات پر اعتبار کیا جا سکے۔

    سچ کہوں تو پاکستانی قوم ، تماشا چاہتی ہے، عزتیں اچھالنے میں اسے سکون ملتا ہے، دوسروں کو تکلیف دینے میں اس کی تفریح ہوتی ہے، ہم لوگ تماش بین بن چکے ہیں۔

    مجھے پاکستانی ٹیم پر لگائے گئے الزامات کی صحت کے بارے میں نہیں پتہ ، وہ سچ ہیں‌یا جھوٹ، لیکن جس انداز میں تمام اخبارات نے بغیر تحقیق کیے اس بات کو شہ سرخیوں پر جگہ دے دی ہے ان کے طرز عمل پر یقیننا افسوس ہوا ہے۔ ابھی زیادہ دن تو نہیں گزرے جب مغربی میڈیا نے پاکستان کو پورنستان کہا، ان اخبار والوں کا رویہ تب بھی ایسا تھا، سبھی نے اس خبر کو اردو ترجمہ کر کے شہ سرخیوں میں جگہ دے دی۔ واہ

    کیا یہ سوچنے والی بات نہیں کہ محمد عامر جیسے بالر جو انگلش ٹیم کو ناک آؤٹ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں کو پاکستانی ٹیم سے ہٹانے کے لیے کوئی حربہ بھی آزمایا جا سکتا ہے ؟ محمد آصف بھی اسی طرز کا ایک بالر ہے جو مستقبل میں خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ کیا ہماری بغل میں انڈیا جیسا دشمن نہیں جس نے پاکستان کو دنیا سے الگ کرنے کے لیے اپنی تمام طاقت صرف کر رکھی ہے ۔لیکن کیا کریں، ہم تو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھے ، بس جو مغربی میڈیا نے کہا وہی سچ ہے۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  9. محمداسد نے کہا:

    @ یاسر عمران مرزا
    میں آپ کی بات سے متفق ہوں یاسر. لوگوں کے اس ردعمل کی وجہ سے زندگی میں پہلی بار اپنا سر دھنا. نہ جانے یہ غصہ ہمیں کہاں لے جا کر چھوڑے گا.

    @ عبداللہ
    آپ غالباَ فیک شیخ کی بڑائی اور نیوز آف دی ورلڈ کی کامیابیاں گنوانا چاہ رہے ہیں. لیکن عبداللہ اس بات پر بھی غور کیجیے کہ ملکی سطح پر تو وہ اسکینڈل بنانے اور انہیں میڈیا کی طاقت کے ذریعے منوانے پر راضی ہوجاتے ہیں. لیکن جب بات آتی ہے دنیا بھر کی تو ان کی دال نہیں گلتی.

    اب یہی مثال لے لیجیے کہ نیوز آف دی ورلڈ کے سٹِنگ رپورٹنگ برطانوی اداکار جان ایلفرڈ کو تو جیل بھیج دیتے ہیں لیکن جب بات آتی ہے ہالی وڈ کی مشہور ہستیوں جیسے بریڈپٹ اور انجلینا جولی کی تو ان کی رپورٹنگ کا جنازہ بڑی شان سے نکلتا ہے. اس پر تو بس اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ چوہا بھی اپنے گھر میں شیر ہوتا ہے، باہر نکلتا ہے تو پھر لگ پتا جاتا ہے.

    پاکستانی اردو روزنامہ ایکسپریس کے ایڈیٹر عباس اطہر کا کل کا کالم اور آج کا کالم بھی اس موضوع پر کافی کچھ بیان کررہا ہے۔ وقت ملے تو اس کا مطالعہ کی بھی کوشش کیجیے گا۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  10. ابوشامل نے کہا:

    گو کہ میں آجکل بلاگستان سے بالکل باہر ہوں اور نیٹ پر سرگرمیاں تقریبا نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن آپ سے کیونکہ ایک کام تھا اس لیے آپ کے بلاگ پر آ گیا تو یہ تحریر ملی۔
    گو کہ میچ فکسنگ کا معاملہ بہت زیادہ گمبھیر رہا ہے اور اس کی تحقیقات کرنا کوئی آسان نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ہنسی کرونیے والے معاملے پر انتہائی کھل کر باتیں ہونے کے باوجود سوائے چند بڈھے گھوڑے قربان کرنے کے کوئی بات آگے نہ بڑھی اور میچ و اسپاٹ فکسنگ جاری رہی۔
    لارڈز ٹیسٹ کے حوالے سے بہت سارے معاملات سوال طلب ہو سکتے ہیں لیکن دو چیزیں جو مجھے کھٹک رہی ہیں ایک عامر کے نوبال والی تصویر دیکھیں، اس میں سلمان بٹ کہاں دیکھ رہے ہیں؟ اس پوزیشن پر کھڑے ہونے والا فیلڈر بالر کے گیند پھینکتے وقت ہمیشہ بیٹسمین کی طرف دیکھتا ہے جبکہ سلمان کی نظریں عامر کی جانب ہیں کہ "اس نے نو بال ہی پھینکی ہے نا؟"

    دوسری چیز جو مجھے کھٹک رہی ہے وہ لارڈز کے فیصلہ کن دن پاکستانی کھلاڑیوں کے چہرے تھے، اور پھر نیوزکانفرنس میں سلمان بٹ کا چہرہ، وہ صاف چغلی کھا رہا تھا کہ یہ چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔ دیکھیں، اگر آپ بے گناہ ہیں تو نیوزکانفرنس میں اور لوگوں کا سامنا کرتے ہوئے آپ کے اندر بہت زیادہ غصہ ہوگا اور پھر شد و مد کے ساتھ اپنے خلاف الزامات کی تردید کریں گے۔ لیکن سلمان کیا کہتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ الزامات ثابت ہونے تک ہم بے گناہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ چیلنج کر رہے ہیں کہ کسی میں ہمت ہے تو ثابت کر کے دکھائے۔
    اس کے علاوہ گزشتہ ماہ 27 جولائی کو جنگ کے سینئر رپورٹر عبد الماجد بھٹی نے اپنی خبر میں پاکستانی ڈریسنگ روم میں مشکوک عناصر کی موجودگی کی طرف اشارہ کیا تھا اور حیران کن بات کہ انہوں نے اظہر مجید اور مظہر مجید کا نام تک لکھا ہے اس خبر میں۔

    برادر! یہ معاملہ اتنا آسان نہیں ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کھلاڑی چھوٹی مچھلیاں ہوں اور بڑی مچھلیاں بورڈ میں یا پھر بورڈ سے بھی اوپر ہوں۔ جو کھلاڑیوں کو مجبور کرتی ہوں کہ وہ اس طرح کی فکسنگ میں ملوث ہوں۔ میرے خیال میں جیف لاسن کا بیان بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔
    گو کہ ابھی جرم ثابت نہیں ہوا، لیکن پاکستانی کھلاڑیوں کے چہرے چغلی کھا رہے ہیں کہ وہ دانستہ یا نادانستہ طور پر اس جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔
    دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  11. عادل بھیا نے کہا:

    سعد بھیا اچھی تحریر لکھی ہے۔ بلکل بجا فرمایا آپنے کہ اب ہم میں صبر ہی نہیں رہا۔ دو دن صبر کر کے رپورٹ کے نتائچ کا انتظار کر لیں تو اِس میں کیا خامی ہے؟
    ابھی فیس بُک پر بھی یوزرز کے تبصرے دیکھ کر نہایت موڈ خراب ہوا۔ سوچ نہیں سکتا کہ اس حد تک دِل سخت ہو گئے ہمارے۔ کوئی انکو گولی مارنے کا مشورہ دے رہا ہے تو کوئی کھمبوں سے لٹکانے کا۔۔۔ کہیں کوئی جرمنی کی ٹیم جیسا سلوک کرنے کو کہہ رہا ہے تو کہیں کوئی سیالکوٹیوں کی طرح ڈنڈے مار مار کر انکو مارنے کی باتیں کر رہا ہے۔ اسکا مطلب ہے کہ سیالکوٹ والا واقعہ کسی اور علاقے یا شہر میں بھی ہوتا تو یہی سلوک کیا جاتا اُنکے ساتھ کیونکہ پوری عوام ہی ایسی ہوگئی ہے سنگ دِل، ظالم اور جابر۔ کبھی کبھی تو سوچتا ہوں کہ کیا اس سب کی وجہ سب کا حرام کھانا ہے؟ کہ یہ سب حرام کھانے کی نشانیاں ہیں۔ خیر بات کہاں کی کہاں نکل گئی۔ بس دُکھ ہورہا ہے اپنی عوام پر۔ 🙁
    محمد عامر‘ عمر عمین اور وہاب جیسے بچے تو یہ کام کر ہی نہیں سکتے۔ یہ سب ان کھلاڑیوں کے کیرئیر کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے۔ اس ویڈیو جیسی ویڈیوز بنانا کوئی مشکل کام نہیں۔ کوئی خاص حقیقت اُس میں دکھائی نہیں دی۔
    http://www.expresspakistan.net/2010/08/30/off-the-record-on-ary-news-30-08-10/
    زیادہ بحث نہیں کرنا چاہتا۔ صرف یہی کہوں گا کہ ہمیں اپنی زبانوں کو لگام دے کر نتائج کا انتظار کرنا چاہئیے۔ جو ہوا بہت بُرا ہوا۔ اگر جھوٹ ہے تو بھی اور خدانخواستہ سچ ہے تو بھی

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  12. عبداللہ نے کہا:

    میرے بھائی آپ کی طرح میری بھی دلی دعا ہے کہ یہ الزام جھوٹ ثابت ہو مگر یہ کہانی کوئی آج کی تو نہیں لوگ تو 79 سے اس طرف اشارے کرتے رہے ہیں مگر جب پوچھ گچھ کرنے والے ہی ملوث ہوں تو ہر ایک کے دل سے جواب دہی کا خوف نکل جاتا ہے،کیا پاکستانی معاشرے کا یہی المیہ نہیں ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    باقی میں کسی کی بڑائی کرنا نہیں چاہتا ،یہ لنکس محض حوالے کے لیئے تھے!!!!!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  13. عبداللہ نے کہا:

    http://www.voanews.com/urdu/news/Cricket-Match-Fixing-31Aug10-101885043.html
    کچھ تفصیل یہاں بھی موجود ہے!
    😳 😥

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  14. لطف الا سلام نے کہا:

    فکسنگ کا معاملہ جیسا بھی ہو، اس واقعے کے بعد سیلاب کی تباہ کاریوں سے لوگ غافل ہو گئے ہیں۔ پہلے ہی اس سلسلہ میں لوگوں کی بے حسی کا رونا رویا جا رہا تھا- اب ان کروڑوں ضرورت مندوں کی فکر کون کرے گا؟

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  15. عبداللہ نے کہا:

    @لطف الاسلام
    ایسا کچھ نہیں ہے نہ لوگ بے حس ہوئے ہیں اور نہ غافل جنہیں کام کرنا تھا وہ جب بھی کررہے تھے اور اب بھی کررہے ہیں!
    اور جو پہلے کچھ نہیں کررہے تھے وہ اب بھی کچھ نہیں کررہے!!!!!!!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  16. جاویداقبال نے کہا:

    السلام علیکم وررحمۃ وبرکاتہ،
    واقعی یہ بات توروزروشن کی طرح عیاں ہےکہ آپ کوئی بھی دورہ جوکہ انگلینڈکےلئےکیاگیاہواس میں آپ کوکوئی نہ کوئی سکینڈل ضرورملےگا۔باقی اللہ تعالی ہی بہترجانتےہیں کہ اس میں کتنی حقیقت ہےلیکن بات یہ ہےکہ ہم لوگ اتنےزیادہ کنفوژہوچکےہیں کہ کوئی بھی ہم پرالزام لگائےہم اس کوسچ مان لیتےہیں ناں کہ کوئی تحقیق وغیرہ کریں۔
    آپ نےبہت اچھےطریقےسےاس مضمون میں بات کی ہےلیکن بات وہی ہےکہ اس حمام میں سب ننگےہیں۔
    اللہ تعالی ہم پراپنارحم و کرم کردے۔ آمین ثم آمین
    والسلام
    جاویداقبال

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  17. عبداللہ نے کہا:

    🙄

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  18. عبداللہ نے کہا:

    محمد اسد مجھے آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ آپکے اس تھیم
    میں ٹائم زون آٹو میٹکلی سیٹ ہے،یعنی جو جہاں سے بلاگنگ کررہا ہوگا وہیں کا ٹائم تبصرہ کرنے والوں کے تبصروں میں نظرآئے گا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    مجھے اس کا جواب اپنی پہلی فرصت میں دیجیئے آپکا مشکور ہوں گا!

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  19. نیوز آف دی ورلڈ کا ماضی قریب کافی کچھ سمجھنے میں مدد دیتا ہے. اس اخبار کو صرف چٹ پٹی خبروں سے مطلب ہے یعنی فرض کریں اگر جیو نیوز کی قوت (پاور) 3 ہو تو جواب نیوز آف دی ورلڈ آتا ہے 😛 .

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  1. 30 اگست 2010

    [...] This post was mentioned on Twitter by Shoiab Safdar, Muhammad Asad. Muhammad Asad said: اسپوٹ فکسنگ اسکینڈل http://goo.gl/fb/bR3tQ #urdu #pakistan [...]

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے