اردو سوشل میڈیا سمٹ کا کامیاب انعقاد

ملیر کے ایک ہوٹل میں صبح کا ناشتہ کرتے اردو بلاگرز کے دماغ میں جو خیال آیا وہ بعد میں اتنا مشکل اور بھاری ثابت ہوگا میں نے سوچا بھی نہ تھا۔ اس وقت تو اردو کی محبت اور جذبات میں آ کر خوب وعدے اور دعوے کرلیے لیکن بعد میں جو معاملات پیش آئے وہ اردو سورس کی انتظامیہ ہی جانتی ہے جیسے قبر کا حال مردہ جانتا ہے۔ لیکن آج اس باری تعالی کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے کہ جس نے اردو سوشل میڈیا سمٹ کو کامیاب بنا کر ہمیں عزت بخشی اور صرف چند گھنٹوں ہی میں وہ ساری تھکن اتار دی کہ جو دسمبر سے 8 مئی تک ہم پر طاری تھی۔

اردو سوشل میڈیا سمٹ کے شرکا

اردو سوشل میڈیا سمٹ کے دوران آڈیٹوریم کا ایک منظر

پروگرام کی تیاری کے دوران کم از کم دو بار میں بالکل حوصلہ ہار چکا تھا۔ معاملات تھے کے طے ہو کر ہی نہیں دے رہے تھے۔ ابھی ایک مسئلہ حل ہوا نہیں کہ دوسرا معاملہ سامنے آ کھڑا ہوا۔ مفت مشورے دینے میں بہت سے احباب آگے آگے رہے لیکن جب ان سے عملی تعاون مانگا وہ نظریں چرا گئے۔ ایسے میں اردو سورس کے بانی عامر ملک اور نوجوان بلاگر کاشف نصیر نے میری بہت حوصلہ افزائی کی، مجھے بھرپور اعتماد دیا جس کے لیے میں ان کا شکر گزار ہوں۔

ابتدائی مراحل میں لوگو کی تیاری سے لے کر ویب سائٹ بنانے تک کا کام تو بحسن خوبی ہوگیا لیکن سب سے اہم معاملہ مالی تعاون کا تھا جس کی سبیل ابھی تک نہ بن سکی تھی۔ ہر گزرتے دن ہمیں انتظامات، تشہیری سرگرمیوں، شخصیات سے ملاقاتوں، ذرایع ابلاغ سے راطوں و دیگر امور کے لیے پیسوں کی شدید ضرورت پڑتی رہی جسے ہم اپنی جیب سے پورا کرتے رہے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا تھا اور پروگرام کی تاریخ قریب آتی جا رہی تھی ویسے ویسے ہماری پریشانیوں میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔

اس دوران شعبہ ابلاغ عامہ، جامعہ کراچی کے پروفیسر عمیر انصاری سے ملاقات ہوئی جو کوجا کے قائم مقام سربراہ اور آواز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیا سائنسز (ایمز) کے استاد بھی ہیں۔ انہوں نے ہمارے پروگرام اور مقاصد کا جائزہ لینے کے بعد بخوشی اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے جامعہ کراچی کی جانب سے اشتراک کی پیش کش کردی۔ ایک اور حوصلہ افزا خبر موصول ہوئی کہ اردو زبان کے لیے ہماری محنت اور لگن کو دیکھتے ہوئے پروگرام کو اسپانسر بھی حاصل ہوگیا ہے۔ یوں ہمیں اپنی محنت رنگ لاتی محسوس ہوئی لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔

جامعہ کراچی کی مشاورت سے پروگرام کی تاریخ و مقام طے کرنے کے بعد ہمیں ضروری محسوس ہوئی کہ پروگرام کا باضابطہ اعلان کیا جانا چاہیے جس کے لیے کراچی پریس کلب میں اردو سورس کی انتظامیہ اور شعبہ ابلاغ عامہ، جامعہ کراچی و کوجا کے نمائندوں نے ایک مختصر پریس کانفرنس کی جس میں نہ صرف وہاں موجود صحافیوں نے حصہ لیا بلکہ بعدازاں اپنے قیمتی مشوروں سے بھی نوازا۔

اس کے بعد ہمارے اگلے اہداف میں سب سے اہم ذرایع ابلاغ کا تعاون حاصل کرنا اور روایتی و سوشل میڈیا سے وابستہ اہم شخصیات کی پروگرام میں شرکت یقینی بنانے کے ساتھ اہم ترین کام پاکستان بھر سے مدعو کیے گئے اردو بلاگرز کی رہائش، طعام و دیگر انتظامات کو پایہ تکمیل تک پہنچانا تھا۔ علاوہ ازیں پروگرام کے بعد یعنی اگلے روز بالخصوص اردو بلاگرز سے کراچی کی سیر کا وعدہ ایفا کرنے کی بھی ذمہ داری تھی۔ کہنے کو تو کام آسان تھے لیکن جب ہم میدان میں اترے تو اندازہ ہوا کہ یہ کام تین لوگوں (عامر ملک، کاشف نصیر اور راقم) کے بس کی بات نہیں۔ عمار ابن ضیاء اور فہد کیہر دفتری مصروفیات جبکہ شعیب بھائی بیرون کراچی ہونے کے باعث ہماری مدد سے قاصر تھے۔

اوپر سے کراچی میں دو مسلسل افسوسناک واقعات پیش آئے کہ جس میں سوشل میڈیا سے وابستہ معروف شخصیت سبین محمود اور جامعہ کراچی کے پروفیسر وحید الرحمن کو قتل کردیا گیا۔ اس پر دوست و احباب نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پروگرم پر نظرثانی کا کہا لیکن اس وقت تک ہم اپنی کشتیاں جلا چکے تھے اور اردو سوشل میڈیا سمٹ کو ملتوی کرنے کا سوچنا بھی ہمارے لیے ممکن نہ تھا۔ اس موقع پر فہد کیہر دیر آید درست آید کی مصداق عملی طور پر سرگرم ہوگئے اور ایکسپریس کو بطور میڈیا پارٹنر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اردو سوشل میڈیا سمٹ کے شرکا

شرکا کی بڑی تعداد اردو سوشل میڈیا سمٹ کے اختتام تک موجود رہی

گو کہ اس وقت تک ہم اپنا تمام زور بازو لگا چکے تھے لیکن امتحان کے وہ لمحات ابھی باقی تھے کہ جنہوں نے ہماری محنت رائیگاں جانے یا رنگ لانے کا فیصلہ کرنا تھا۔ اس سلسلے میں پروگرام سے چند روز قبل ہی سے ہماری نیندیں اڑ چکی تھیں۔ دن میں ایوارڈز، تشہہری بینرز کی تیاری، قیام و طعام کے انتظامات، انٹرنیٹ کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بھاگتے تو رات میں شرکاء کو تصدیقی فون اور ای میل، پروگرام کے سیشنز بناتے۔ غرضیکہ کہ وقت بھاگا جا رہا تھا اور ہم اسی کی رفتار سے تیاریوں میں لگے تھے۔ بالآخر "چاند رات" آ ہی گئی لیکن ہمارے کام مکمل نہ ہوئے اور تھکن سے چور ہونے کے باوجود یہ رات بھی جاگ کر گزاری۔

بروز جمعہ 8 مئی کی صبح سات بجے ہی عامر ملک کے ساتھ ایچ ای جے آڈیٹوریم کی راہ لی۔ وہاں پہنچ کر اسٹیج کا بیک گراؤنڈ لگایا اور انٹرنیٹ چیک کیا۔ سب کچھ الحمدللہ ٹھیک چل رہا لیکن سانس پھولی ہوئی اور دھڑکنیں بے ترتیب تھیں۔ عمار ابن ضیا اور شعیب صفدر کی علی الصباح آمد ہوئی تو کچھ حوصلہ ہوا۔ تیاری کے لیے دوبارہ گیسٹ ہاؤس کا رخ کیا اور پھر قریباً سوا دس کے قریب آڈیٹوریم میں داخل ہوا تو رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، تمام اہم مہمان آچکے تھے اور تقاریر کے بعد میرا سیشن "پاکستان دوست امریکی سے ملاقات" تھا۔ (اس کی تفصیل آئندہ بلاگ میں ان شاء اللہ)

عمار ابن ضیا نے جس خوبی سے پروگرام کی میزبانی کے فرائض سر انجام دیے اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ شعیب صفدر ایک رات قبل کراچی آنے کے باوجود صبح سویرے سے ہی پروگرام کے انتظامات میں لگ گئے اور کمال ذہانت سے بہت سے پیچیدہ معاملات کو باآسانی حل کیا۔ وقار اعظم، اویس مختار اور نادر بیگ نے بھی ہنگامی بنیادوں پر جو کام کیے وہ بھی ناقابل فراموش ہیں۔ ہر اردو بلاگر نے خود کو سمٹ کے انتظامات کے لیے جتنے خلوص سے پیش کیا وہ انتہائی قابل قدر ہے۔

کھانے کے وقفے کے دوران ہی ہمیں اندازہ ہوگیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت سے پروگرام کامیابی کی طرف گامزن ہے۔ شرکاء کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا تھا اور ہمیں ڈر تھا کہ آڈیٹوریم میں جگہ کم نہ ہوجائے، کھانا کم نہ پڑجائے یا ٹھنڈے مشروبات ختم نہ ہوجائیں لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ پروگرام کے دوسرے حصے میں سمٹ میں شرکت کے لیے اسلام آباد سے کراچی آنے والے اردو بلاگر مہتاب عزیز نے روایتی و سماجی میڈیا سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی انتہائی شاندار نشست کی میزبانی کے فرائض سر انجام دیے جو اپنی مثال آپ ہیں۔

آخر میں اردو سورس کی جانب سے اردو کی ترویج و تبلیغ میں اہم کردار ادا کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اردو سورس ایوارڈز تقسیم کیے گئے۔ بہترین فیس بک صفحے کا ایوارڈ طفلی، بہترین ٹویٹر صارف کا ایوارڈ محسن حجازی اور بہترین اردو بلاگ ایوارڈ ریاض شاہد صاحب کو دیا گیا۔ جس کے لیے ان تینوں صاحبان کو بہت بہت مبارک ہو۔

یہ اردو سوشل میڈیا سمٹ 2015ء سے جڑی کچھ یادیں اور باتیں تھیں جو میں نے آج مختصراً بلاگ کرنے کی کوشش کی ہیں۔ طوالت کے باعث بہت سی چیزوں کو شامل کرنے سے قاصر ہوں اس لیے میری خواہش اور گزارش ہے کہ پروگرام کی دیگر تفصیلات سے متعلق جاننے کے لیے درج ذیل روابط دیکھیں:
اردو سوشل میڈیا سمٹ 2015ء کی مکمل روداد (اردو سورس)
اُردو اب بھی زندہ ہے! (محمد نعیم)
خواب کیسے پورا ہوا! (کاشف نصیر)
اردو سوشل میڈيا سمٹ، قصہ ہمالیہ کے سر ہونے کا (ابو شامل)
Yes! We Did It! #UrduSMS (عمار ابن ضیا)
اردو + شوشل میڈیا سمٹ (شعیب صفدر)
اردو سے اردو سورس تک (ڈاکٹر اسلم فہیم)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کیجیے

@محمد زبیرمرزا: بہت شکریہ زبیر بھائی۔ آپ نے جس طرح ہماری حوصلہ افزائی کی اور ہم میں ہمت برقرار رکھنے کا سامان کیا، اسے لفظوں میں بیان کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ خوش رہیں!

@محمداسلم فہیم: بے شک ڈاکٹر صاحب۔

@Omer: 🙂

@عمار ابنِ ضیا: عمار بھائی الحمدللہ ہم سب ہی کی محنت نے اس کو کامیاب بنایا، اس کا کریڈٹ پوری ٹیم کو جاتا ہے۔

@کاشف نصیر: تم کون نوجوان کہنا اصل میں خود کو نوجوان باور کرانا ہے :p اگلی بار اس سے بڑی چیز کا سوچو!

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

ہائیں، میں نوجوان بلاگر ہوں، کیا باقی ضعیف ہیں 🙂
پھر ''اردو سوشل میڈیا سمٹ 2016'' کی تیاری شروع کردیں؟

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

اسد بھائی، بلاشبہ آپ نے اور کاشف نصیر نے بہت زیادہ محنت کی اور نالائقی یا عدیم الفرصتی کا شکار ساتھیوں کا بوجھ بھی برداشت کیا۔ یہ آپ لوگوں کی محنت ہی کا پھل ہے کہ اتنی عمدہ تقریب کا انعقاد ممکن ہوسکا۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب
Omer says:

(y)

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

ليس الانسان الاّ ما سعٰی
انسان کیلئے وہی کچھ ہے جس کیلئے اس نے کوشش کی
اللہ تعالٰی کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتے آپ نے محنت کی، اس کا پھل پا لیا

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

آپ کی محنت اور لگن نے ایک نئی روایت کی بنیاد رکھی- اُردو کی محبت کا حق آپ نے ، دیگر انتظامیہ اور شرکاء
نے بخوبی ادا کیا - اس تحریر کوپڑھتے ہوئے کچھ انکشافات بھی ہوئے جن کے بارے میں سوچا تولیکن پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی تھی کہ خیال خاطرِ احباب چاہیے ہردم پر جھجک گیا اور ---- خیریہ ذکرہماری ندامت کا پھرسہی -
دلی مبارک باد قبول فرمائیں- اللہ تعالٰی آپ کو مزید بے شمار کامیابیاں عطافرمائیں (آمین)
پاکستانی امریکی دوست پرتحریرکا انتظاررہے گا -

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

@خاور بلال: خیر مبارک بھائی. آپ کی اس پروگرام سے سنجیدگی، محبت اور خلوص بنائے گئے لوگو سے ہی ظاہر تھی جو بہت پسند کیا گیا.

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

@فرحان دانش: شکریہ فرحان. آپ کراچی میں تھے تو شرکت ضرور کرنی چاہیے تھی اسی بہانے ملاقات بھی ہوجاتی.

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

@شعیب صفدر: درست فرمایا شعیب بھائی. خوش رہیں!

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

یہ آپ اور ٹیم کے دیگر ساتھیوں کی شبانہ روز محنتوں کا نتیجہ تھا۔ اللہ ایسی مزید کامیابیاں عطا کرے

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

بہت مبارک اتنی شاندار کانفرنس کے انعقاد پر۔ واقعی اتنے پڑے کام میں ہاتھ ڈالنا اور پھر اس کو نبھالینا بڑی بات ہے اور وہ بھی پہلی بار۔ محنتوں کا ثمر اللہ نے دیا اور خوب دیا۔ اللہ کرے یہ سفر تیزی سے آگے بڑھے اور اردو کو ایک ایسا پلیٹ فارم مل جائے جو جدید ذہن کو اردو سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے۔

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

اردو سوشل میڈیا سمٹ کے کامیاب انعقاد پر آپ لوگوں کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے.

اس تبصرے کا جواب دیںجواب

عمدہ الفاظ میں تمام کہانی بیان کی.
نیک نیتی سے کسی بھی سلسلے میں کوشش کی جائے اللہ اسے کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے.

اس تبصرے کا جواب دیںجواب