سیاست سے سیاست تک

5

والد صاحب کی سخت ہدایات کی روشنی میں جب ہم نے شامیانے کے اندر قدم رکھا تو عش عش کر اٹھے. حسب سابق میزبان کے بعد سب سے پہلے پہنچنے والے مہمان ہم ہی تھے جو کہ دعوت نامہ پر تحریر وقت کی پابندی کا جرم سرزد کر بیٹھے تھے. وہ تو شکر ہے کہ کچھ ہی دیر میں چند بزرگوں نے بھی ہمیں ’جوائن‘ کرلیا. حال احوال کے بعد حسب معمول سیاست پر گرما گرم بحث شروع ہوئی جس نے تجربہ سے بھرپور سیاسی و تاریخی اعتبار سے ہمارے علم میں بہت اضافہ کیا. مختصر حصہ سے آپ بھی مستفید ہولیں!

’’السلام علیکم بھائی! کیا حال ہیں؟‘‘
’’وعلیکم السلام جناب! حال کیا پوچھتے ہیں؟ بس وہی حال ہیں جو ملک کے ہیں‘‘
’’اجی ملک کا تو اللہ ہی حافظ ہے. آپ یقین کریں میں نے اپنی زندگی میں کبھی اتنے خراب حالات نہیں دیکھے جتنے آج دیکھ رہا ہوں.‘‘
’’بالکل درست فرمایا. ہر طرف افراتفری کا عالم ہے اور تو اور مہنگائی بھی سر چڑھ کر بول رہی ہے‘‘
’’بھئی کیا چھوٹا کیا بڑا، مہنگائی کا تو ہر کوئی مارا ہے. لیکن سپریم کورٹ نے چینی کی قیمتیں متعین کر کے بڑا اچھا کام کیا‘‘
’’کیا خاک اچھا کام کیا؟ سپریم کورٹ کوئی پیاز ٹماٹر کے بھاؤ لگانے بیٹھی ہے؟ اسے اور کوئی کام نہیں‘‘
’’حکومت بھی یہی کہتی ہے کہ سپریم کورٹ اپنے اختیارات سے تجاوز کررہی ہے‘‘
’’ارے حکومت تو این آر او کا بدلہ لینے کے لیے سپریم کورٹ کے خلاف سازش کر رہی ہے‘‘
’’ویسے حکومت کر کچھ نہیں سکتی. اب یہی دیکھ لیں کہ رحمان ملک کا نام ای سی ایل میں شامل ہے لیکن وہ صدر کے ساتھ دوبئی روانہ ہوگئے‘‘
’’تو بھائی صدر کو کون روک سکتا ہے؟ اب تو اسی کے رحم و کرم پر ہے ملک‘‘
’’اب تو وزیر اعظم بھی صدر کی وکالت پر اتر آیا ہے بھئی‘‘
’’ارے وزیر اعظم ہی کیا؟ ہر کوئی صدر کی جی حضوری میں آگے بڑھنے کی کوششوں میں ہے. ذرا یہ فوزیہ وہاب ہی کو دیکھ لیں‘‘
’’ارے یہ فوزیہ وہاب بھی کچھ کم تھوڑا ہی ہے. 1989ء میں پیپلز پارٹی میں آئیں تھی تو اس کا شوہر تھا عبدالوہاب. بے چارہ وہی اسے برداشت نہ کرپایا اور دل کا دورہ پڑنے سے انتقال فرما گیا‘‘
’’تو کیا اس نے دوسری شادی کرلی؟‘‘
’’ہاں بھئی! وہ اپنے ڈاکٹر صاحب ہیں ناں! ڈاکٹر سید . . . انہی کے بھائی سے تو کی ہے‘‘
’’ابھی تو فوزیہ وہاب چھپتی پررہی ہے. اس کے بیٹے نے جو دھمکی دی ہے ناں عباس انصاری (جی انہوں نے یہی نام لیا تھا) وہ اس کے گلے میں اٹک گئی ہے‘‘
’’ارے چھوڑئے جناب کیا خاک اٹکی ہے. حکومت میں ہونے کا مطلب ہی یہی ہے کہ آپ نے جو کرنا ہے کریں، کوئی نہیں روکنے والا‘‘
’’صرف حکومت ہی کیا؟ اگر آپ حکومتی جماعت یا اتحادی جماعت کے بھی رکن ہیں. تو بھی آپ آزاد ہیں‘‘
’’اسی کو دیکھ لو ذرا کیا نام ہے بھلا سا . . . ہاں جہانگیر بدر! وہ کتنا کھل کھلا رہا ہے آج کل‘‘
’’بھئی کیوں نہ کھل کھلائے؟ پارٹی نے اتنی اونچائی پر جو پہنچادیا ہے‘‘
’’ارے بھائی آپ یقین کریں! اس کا باپ پکوڑے تلتا تھا لاہور میں… اور ایک بار یہ بے چارہ بلڈنگ کی چھت سے نیچے گر گیا تو دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئی تھیں‘‘
(اتنے میں ایک صاحب نے محفل میں داخل ہوتے ہی خبر سنائی)
’’کراچی کے علاقہ پاپوش میں دھماکہ ہوا ہے‘‘
’’اللہ بچائے کراچی کو . . . صرف یہی ایک شہر بچا ہوا ہے درندوں سے‘‘
(خبر سنانے والے صاحب نے موبائل فون نکالا اور بات کرنے لگے)
’’ہیلو! ہاں بھئی اب کیا صورتحال ہے؟ . . . اچھا . . . دھماکہ گاڑی میں ہوا ہے . . . اچھا مرے کتنے ہیں؟ . . . چچ چچ چچ . . . کوئی بھی نہیں مرا . . . اچھا . . . زخمی بہت سارے ہیں . . . چلو دیکھو ان میں سے کوئی مرتا ہے ہے یا نہیں‘‘
’’بھئ نیوز کے معاملہ میں ہمارا میڈیا دنیا میں سب سے آگے ہے. وہاں واقعہ ہوا، یہاں خبر نشر ہوئی‘‘
’’اور تو اور ایک سے ایک تجزیہ بھی فوراَ سے بیشتر ہوجاتے ہیں‘‘
’’ارے چھوڑئیے جناب! یہ میڈیا والے بھی بس پیسے بنا رہے ہیں. خبر کا پتنگڑ بناتے ہیں اور کچھ نہیں‘‘
’’بالکل درست فرمایا آپ نے ماموں! یہ سب دکان لگاکر بیٹھ جاتے ہیں جیسے پکوڑے والا لگاتا ہے. کوئی سات بجے کوئی آٹھ بجے کوئی دس بجے . . . یعنی ایک جاتا ہے تو دوسرا آجاتا ہے‘‘

پکوڑے والی بات سن کر مجھ سے رہا نہ گیا اور وہ ہنسی جسے میں کافی دیر سے دبائے بیٹھا تھا بے اختیار نکل ہی گئی. قریباَ تمام ہی بزرگ میری اس گستاخی پر مجھے گھورنے لگے. میں تھوڑی دیر رکھا اور پھر بصد احترام عرض کی: ’’اس دعوت کا مقصد تو شاید کچھ اور تھا، لیکن آپ حضرات کی گفتگو نے اسے نیوز چینل کے پروگرام میں تبدیل کردیا. بزرگوں کی ملاقاتوں میں اکثر بات چیت کا محور سیاست سے سیاست تک ہی رہتا ہے اس لیے یہ کوئی نئی بات بھی نہیں. محفل میں شامل ہونے والے آپ کے صاحبزادے نے جس فخریہ انداز میں ’کرنٹ نیوز‘ سے ہمیں آگاہ کیا وہ بھی قابل تعریف ہے. دھماکہ میں کچھ لوگ مرے ہوتے تو انہیں واہ واہ کروانے کا سنہری موقع مل جاتا. اب چونکہ میں یہاں آدھے گھنٹے سے بیٹھا آپ لوگوں کے مصالحہ دار پکوڑوں سے لطف اندوز ہورہا ہوں اس لئے اب مجھے مرچے لگنے لگیں ہیں. گزارش ہے کہ کسی بچے کو بلاکر گلوکو بسکٹ کا اشتہار ہی چلوادیں.‘‘

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

5 تبصرے

  1. افتخار اجمل بھوپال کہتے ہیں

    جناب ہمارے ساتھ تو کئی بار ہوا ہے کہ وقت پر پہنچے اور میزبان کا بھی استقبال کیا

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. فرحان دانش کہتے ہیں

    ہماری قوم اب صرف دو کام کرتی ہے ایک ٹی وی دیکھنا اور دوسرا ایس ایم ایس کر :mrgreen:

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. محمداسد کہتے ہیں

    @افتخار اجمل بھوپال
    بالکل جناب اب تو میزبان بھی تاریخ تبدیل ہونے کے بعد ہی شامل محفل ہوتے ہیں 😆

    @فرحان دانش
    روز اول سے ہمارے اندر ڈاکٹر، مفتی اور تبصرہ نگار جیسی خصوصیات بیک وقت جو موجود ہیں :mrgreen:

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. میرا پاکستان کہتے ہیں

    کیا بات سے بات نکالی ہے آپ نے. مزہ آ گیا. ویسے وقت کی پابندی ہم اپنے محلے کی ماہانہ میٹنگز میں کی ہے. جو بھی لیٹ آیا اس نے جرمانہ بھی دیا اور مذاق کا محور بھی بنا.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. محمداسد کہتے ہیں

    @میرا پاکستان
    بلاگ پر خوش آمدید اور پسندیدگی کا شکریہ
    درحقیقت اگر ہم اپنی مختصر محفلوں میں بھی وقت کی پابندی کریں تو کوئی بعید نہیں کہ یہ مثبت رواج آہستہ آہستہ تقویت پا جائے.

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.