تھر پار کر کے مسائل اور ان کا حال

اب سے کوئی سال بھر قبل تھر پار کر میں بچوں کی ہلاکت پر مختلف خبریں اور پروگرامات ذرائع ابلاغ پر دیکھے گئے تھے۔ اس وقت یہ مسئلہ اخبارات کے پہلے صفحہ، ریڈیو اور ٹی وی چینلز کی ہیڈلائنز میں آتا رہا۔ پھر وقت کے ساتھ اور دیگر سانحات کی طرح ہم وہاں ہونے والی اموات کے بھی عادی ہوگئے۔ تھر کی خبریں اخبارات کے صفحہ اول سے پچھلے صفحے پر منتقل ہوگئیں اور اب ان کو اندرون صفحات پر بھی بمشکل جگہ ملتی ہے۔

گزشتہ دنوں ایک پرانے دوست سے ملاقات ہوئی جو ایک سرکاری محکمے کا ملازم ہے اور آج کل بدین میں ہوتا ہے۔ باتوں میں تھر کا ذکر آیا تو اس نے وہاں کے مسائل خاص کر بچوں کی ہلاکت کی بنیادی وجہ مقامی لوگوں کی جہالت کو قرار دیا اور بتایا کہ حکومت نے تو بہت بڑا سرکاری ہسپتال بنایا ہوا ہے لیکن وہاں لوگ جاتے ہی نہیں ہیں جس کی وجہ سے نومولود بچوں پیدائش کے کچھ ہی دنوں یا ہفتوں بعد انتقال کر جاتے ہیں۔ یہ بات میرے لیے بالکل نئی اور حیران کن تھی۔

اس حوالے سے کچھ تحقیق کی تو علم ہوا کہ وہاں واقعی بہت بڑا ہسپتال موجود ہے جہاں ڈاکٹرز بھی ہیں اور پیرامیڈیکل اسٹاف بھی ہے۔ جہاں تک بات ہے غذائی قلت کی تو وہاں بہت سے سرکاری و نجی رفاحی ادارے اس حوالے سے کام کر رہے ہیں۔ امداد کی مد میں رقوم بھی جا رہی ہیں۔ کنووں کی کھدائی بھی کی جارہی ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ تھر پار کر میں بچے کیوں مر رہے ہیں؟

اس سوال کا جواب جاننے کے لیے گزشتہ دنوں چند افراد نے تھر پار کر جا نے کا فیصلہ کیا اور وہاں موجود وسائل اور مسائل کا جائزہ لیا۔ اس ٹیم کے ایک رکن ڈاکٹر فیاض عالم نے تھر پار کر کے بنیادی مسئلے اور ان کے حل کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا جس کی ویڈیو ریکارڈنگ ذیل میں موجود ہے۔ 16 منٹ کی یہ ویڈیو ان ٹی وی چینلز کے پروگرامات سے کئی درجہ بہتر ہے جو گھنٹوں بحث برائے بحث میں صرف کردیتے ہیں اور بغیر کوئی حل تجویز کیے ختم ہو جاتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. اگرچہ مجھے اس موضوع میں کافی دلچسپی تھی۔ آپکے اس مضمون کو دیکھ کر اشتیاق مزید بڑھا۔

    لیکن یہ جو ویڈیو کے اوپر اشتہار آجاتا ہے ،تو بس سارا مزہ کرکرا کردیا۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. ↘↘↘↘نہین جناب!!! تھر لوگ جنتے سمجہدار ہین وہ سمجھ شاید آپ کے کراچی مین ہو!! بس تہر کے لوگ غریب اور شریف ہین اس لئے "آپ " نے ان کو جاہل لقب دیا
    ‏↘↘اور رہی بات سرکاری ہسپتالون کی تو یہ ڈاکٹرز" سیاسیون" کو رشوت دے کر اپنی کلنک چلا رہے ہین
    ‏↘↘↘↘↘↘↘↘

    ۰

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *