اچھا لکھاری بننے کے 7 گُر

بلاعنوان اردو بلاگ کے مستقل قارئین اور فیس بک، ٹویٹر وغیرہ سے جڑے دوست بخوبی جانتے ہوں گے کہ میں کوئی اعلی پائے کا لکھاری یا مشہور بلاگر نہیں۔ بس چند الفاظ جوڑ کر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی کوشش کرتا ہوں جس میں کبھی کامیابی ملتی ہے تو کبھی نصیحت ہے۔ بہرحال، لکھنے کا سلسلہ گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے اور اب چونکہ روزگار بھی اسی سے وابستہ ہے تو کوشش رہتی ہے کہ اس صلاحیت کو بہتر سے بہتر بنایا جاسکے۔ اس ضمن میں چند ایک باتوں پر باقاعدگی سے عمل کرنے کی سعی کو کافی مفید پایا ہے اور آج اپنے ہی جیسے طفل مکتب ساتھیوں کے لیے انہیں یہاں پیش کر رہا ہوں۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میرے بلاگ کو پڑھنے والوں میں چند انتہائی قابل اردو لکھاری بھی شامل ہیں اور ان ہی کے لیے آخری نکتہ میں ایک گزارش ہے، امید ہے کہ وہ اسے نظر انداز نہیں کریں گے۔

آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات تو یہ ذہن میں بٹھالیں کہ لکھنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ آپ جو ہیں، جیسے ہیں، جہاں ہیں۔۔۔ لکھنا چاہیں تو لکھ سکتے ہیں۔ اپنے خیالات کو لفظوں میں ڈھالنے کے لیے آپ کو کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے لیے صرف اور صرف خواہش چاہیے۔ لکھنے میں مہارت وقت کے ساتھ حاصل ہوتی چلی جائے گی۔

1: پڑھیں، پڑھیں اور پڑھتے رہیں

یہ سب سے پہلا اور اہم ترین نکتہ ہے۔ آپ کسی بھی اچھے لکھاری کے اہم معمولات جانیں تو ان میں مطالعہ ضرور شامل ہوگا۔ ضروری نہیں کہ آپ پڑھنے کے لیے کسی موٹی کتاب ہی کا انتخاب کریں بلکہ چھوٹے کتابچے، اخباری کالم یا پھر بلاگز پڑھ کر بھی مطالعے کی عادت ڈال سکتے ہیں۔ اس ضمن میں اپنے ذوق کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں اور ایسی چیزیں پڑھیں جن میں آپ کی دلچسپی برقرار رہے۔ البتہ ایک بات کا ضرور خیال رکھیں کہ پڑھنے کے لیے ہمیشہ معیاری چیز کا ہی انتخاب کریں ورنہ فائدے کے بجائے نقصان بھی ہوسکتا ہے۔

2: روزانہ کچھ نہ کچھ ضرور لکھیں

مطالعے کے ساتھ ساتھ لکھنے کی مشق بھی کریں۔ روزانہ کچھ نہ کچھ ضرور لکھیں اور بلاوجہ لکھنے کا ناغہ مت کریں۔ دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے آپ لکھنے کا دورانیہ اور موضوع وغیرہ میں رد و بدل کرسکتے ہیں۔ کسی دن ایک صفحے کا مضمون لکھنے کی کوشش کریں، کسی دن مختصر مگر جامع بات لکھیں تو کبھی بلاگ کی صورت میں اظہار خیال کریں۔ انگریزی مقولہ "پریکٹس میکس مین پرفیکٹ" کے مصداق لکھنے کی مشق آپ کو بہترین لکھاری بنا دے گی۔ اس سے آپ کے اندر لکھ کر اظہار خیال کی جھجھک ختم ہوگی اور آپ خود اعتمادی کے ساتھ اپنی بات دوسروں تک پہنچا سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: بلاگ کتنا طویل لکھنا چاہیے؟

3: درست املا اور نئے الفاظ استعمال کریں

لکھتے ہوئے جس بات کا سب سے زیادہ خیال رکھا جانا چاہیے وہ درست املا ہے۔ جس طرح ایک مصور رنگوں سے کھیلتا ہے اور بدنما رنگوں کے استعمال سے تصویر کی کشش کھو جاتی ہے ویسے ہی ایک مصنف لفظوں سے کھیلتا ہے اور غلط املا یا گرامر اس کی تصنیف سے دلچسپی خارج کردیتے ہیں۔ اس لیے الفاظ کو ٹھیک ٹھیک لکھنے کا خاص خیال رکھیں۔ اگر ایک بار کوئی لفظ غلط لکھ بھی دیا تو پریشانی کی بات نہیں، لیکن غلطی کی نشاندہی اور اصلاح کے بعد بھی بارہا غلط لفظ لکھا جاتا رہے تو یہ بہت منفی تاثر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ نئے الفاظ کا استعمال بھی ایک زبردست ہنر ہے جو آپ کی تحریر میں جان ڈال سکتا ہے۔ یہ ہنر آپ کو مطالعے سے آئے گا۔ درست املا اور نئے الفاظ سیکھنے میں لغت بھی اہمیت کی حامل ہے۔

4: اردو "ٹائپ" کرنا سیکھیں

قلم سے لکھنے کی روایت اب صرف تعلیمی اداروں تک محدود ہوچکی ہے اور پیشہ وارانہ امور میں کمپیوٹر پر انحصار بڑھتا جارہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آپ خوشخطی کے ساتھ کمپیوٹر پر اردو ٹائپنگ بھی سیکھیں۔ اپنا مضمون آن لائن ویب سائٹ پر شائع کروانا مقصود ہو یا پھر کسی اخباری کالم کی صورت میں، دونوں ہی آپ سے انپیج یا پھر یونیکوڈ فائل مانگیں گے۔ کچھ لوگ انگریزی ٹائپنگ میں مہارت رکھنے کے باوجود کیبورڈ سے اردو لکھنے کو بہت مشکل خیال کرتے ہیں حالانکہ پاک اردو انسٹالر میں شامل فونٹک کیبورڈ نے اردو ٹائپنگ کو آسان ترین بنا دیا ہے۔ بس ضرورت ہے تو تھوڑی سی مشق کی اور پھر دیکھیں کہ آپ کی انگلیاں اردو بھی اتنی ہی رفتار سے ٹائپ کرسکیں گی کہ جتنی تیزی سے آپ انگریزی لکھتے ہیں۔

5: ہم مشغلہ دوستوں سے جڑیں

ان لوگوں سے ملیں جلیں جو آپ ہی کی طرح پڑھنے اور لکھنے کا شوق رکھتے ہیں۔ اس سے نہ صرف آپ کو بہت کچھ نیا سیکھنے کا موقع ملے گا بلکہ لکھنے کی ترغیب اور توانائی بھی حاصل ہوگی۔ اپنے دوستوں میں لکھنے سے متعلق مسائل اور مشکلات پر گفتگو کر کے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر آپ کسی خاص موضوع جیسا کہ ٹیکنالوجی یا پھر کسی کھیل وغیرہ پر لکھنا چاہتے ہیں، تو ان موضوعات پر لکھنے والوں کو بھی اپنے دوستوں میں ضرور شامل کریں۔ اس ضمن میں فیس بک پر اردو بلاگر گروپ کے نام سے موجود اجتماع گاہ میں شرکت بھی مفید ہے (جہاں دنیا بھر کے اردو بلاگران ایک دوسرے کو "سبق سکھانے" پر تلے رہتے ہیں)۔ آپ بھی اس فیس بک گروپ میں شامل ہوسکتے ہیں۔

6: قارئین کے تبصروں سے سیکھیں

کسی بھی لکھاری کے لیے اس کے مضمون پر آنے والے تبصرے بہت اہم ہوتے ہیں۔ یہ چاہے تعریفی ہوں یا تنقیدی، ایک اچھا لکھاری ان سے بہت کچھ حاصل کرسکتا ہے۔ اخباری کالم کی نسبت آن لائن شائع ہونے والے مضامین اور بلاگز پر قارئین کا ردعمل جلد اور بڑی تعداد میں موصول ہوتا ہے۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آیا مضمون میں بیان کردہ مدعہ قاری کی سمجھ میں آیا یا پھر اگر کوئی آپ کے خیال سے اختلاف کر رہا ہے تو اس کی کیا وجوہات ہیں۔ اس سے آپ کو لکھنے کی صلاحیت ہی نہیں بلکہ اپنی سوچ میں نکھار لانے کا بھی موقع ملے گا۔ علاوہ ازیں آپ قارئین کی آرا سے اپنے آئندہ مضمون کا موضوع بھی تلاش کرسکتے ہیں جس پر آپ بہتر طور پر اظہار خیال کرسکیں اور قارئین بھی اسے دلچسپی سے پڑھیں۔

7: آخری بات، آپ شامل کریں

اگر آپ بھی لکھنے کے پیشے سے وابستہ ہیں تو مجھ جیسے طالب علموں کے لیے ایک گُر آپ بتائیں۔ آپ باقاعدہ صحافی ہوں یا پھر فیس بک لکھاری، آپ کو تجربے سے وہ کچھ حاصل ہوا ہوگا جو اچھا لکھاری بننے کی خواہش رکھنے والوں کو درکار ہے۔ یہ درخواست ان دوستوں سے بھی ہے جو اس شعبے سے وابستہ ہیں اور اپنے کام میں مہارت رکھتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ تبصروں کے ذریعے آپ کی شمولیت قارئین کے لیے مفید ثابت ہوگی۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

7 تبصرے

  1. sarmad says:

    apki website boht slow he . kisi achi hosting company ya package le. itna wait kerna parta he dil kerta he close ker de page loading and loading. pawnhost.com check ker le pakistani top blogger abdul wali recommended host he. ya koi or behter host jo pasand ho apko

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. بہت خوب، وہ شعر تھا
    گرتومی خواہی خوش نویس، می نویس و می نویس و می نویس ، اگر تم چاہتے ہو خوشخط لکھنا تو لکھتا رہ ، لکھتا رہ، بسے ایسے ہے لکھتے رہیے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  3. بندہ کے نزدیک تو صرف ایک ہی گُر ہے۔ مطالعہ۔
    جتنا مطالعہ کریں گے اتنا بہتر ہوگا۔
    البتہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ بلاگنگ کس لئے کر رہے ہیں آپ۔
    اگر تو اپنی بیاض کے نام سے کاپی پیسٹ شاعری ہی ڈالنی ہے تو کوئی فائدہ نہیں۔

    بلاگنگ سے پہلے تھوڑا بہت مطالعہ کرلینا چاہئے، اپنے رجحانات کا،موضوع کا اور وقت کا۔
    ایک مرتبہ موضوع منتخب ہوگیا کہ کرنا کیا ہے تو پھر اپنےاوقات کار کو ایسی نہج پر ترتیب دینا ہوگا کہ باقاعدی سے اپ کے بلاگ پر تحریر شائع ہوتی رہے۔
    اس کے ساتھ ساتھ موضوع کے حوالے سے مطالعہ جاری رکھنا بہت لازمی ہے۔

    یاد رکھئے جس دن آپ نے فیصلہ کر لیا کہ اب آپ ایک عدد سینئر یا پروفیشنل بلاگر بن چکے ہیں، اس دن آپ کے بلاگ کی موت واقع ہوجائے گی۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  4. raja islam says:

    thanks for sharing

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  5. بہت جامع بلاگ اور مفید مشورے۔۔۔ آپ نے بہت اچھے موضوع کا انتخاب کیا جو لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کے لیے کارآمد بھی ہے۔
    عنوان "لکھاری بننے" سےاختلاف ہے جس کی وضاحت آپ کے اسی بلاگ میں آپ کے اپنے الفاظ میں کچھ یوں ہے" لکھنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ آپ جو ہیں، جیسے ہیں، جہاں ہیں۔۔۔ لکھنا چاہیں تو لکھ سکتے ہیں۔ اپنے خیالات کو لفظوں میں ڈھالنے کے لیے آپ کو کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے لیے صرف اور صرف خواہش چاہیے۔ لکھنے میں مہارت وقت کے ساتھ حاصل ہوتی چلی جائے گی"۔
    دوسری بات "پڑھنے" کے حوالے سے کہ محض "لکھاری بننا" سیکھنے کے لیے مطالعہ شرطِ اول ہرگز نہیں۔ میرے خیال میں لکھنا اپنی ذات اپنے احساس پر خوداعتمادی کی ایک کیفیت کا نام ہے۔برسوں سے جاری ایک ارتقائی عمل ہے جو تکیوں کے نیچے چھپائی جانے والی ذاتی ڈائری سے سفر کرتے ہوئے انٹرنیٹ کی دنیا میں بلاگ بنا کر سب کے سامنے بےدھڑک اپنی سوچ شئیر کرنے تک محیط ہو چکا ہے۔
    اب بات پڑھنے کی یا مطالعے کی تو پڑھنا ایک ایسی عادت ہے جو انسان کے ماحول کی مناسبت سے بچپن سے ہی اس کی فطرت میں شامل ہوتی ہے اور بڑھتے بڑھتے ایک نشے کی طرح اس کی شخصیت پر حاوی ہو جاتی ہے۔
    ہر لکھنے والا پڑھنے والا تو ہوسکتا ہے اور ہوتا بھی ہے لیکن ہر پڑھنے والا لکھاری نہیں بن سکتا۔ اسی بات کو ایک بلاگ میں یوں کہا تھا "
    پڑھنے سے انسان تنقید نگار تو بن سکتا ہے۔۔۔لکھنے کا طریقہ تو سیکھ سکتا ہے۔۔۔ لفظ کی کمائی کر کے اپنی دُنیا اپنی زندگی کامیاب بنا سکتا ہے۔ایک محدود عمرمیں ستائش اورآسائش کے مزے لوٹ کر۔۔۔اپنے"ظرف" کے مطابق مطمئن ہو کر۔۔۔اس جہانِ فانی سے کوچ کر سکتا ہے۔
    لیکن!!!قلمکار بننے کے لیے اپنی ذات کی پہچان بےحد ضروری ہے۔جب تک اپنے ذہن کے جالے صاف نہ کیے جائیں۔۔۔مایوسیوں ،ناکامیوں اور تلخیوں کی گرد ہٹا کر آنکھیں نہ کھولی جائیں۔۔۔اپنے آنسوؤں کو موتی کی طرح پرو کر لفظ میں نہ سمویا جائے۔۔۔ماضی کے بوسیدہ اوراق کو یاد نہ رکھا جائے۔۔۔ انہیں اپنی غربت کے لباس کی طرح نہ پہنا جائے۔۔۔لازوال ادب تخلیق نہیں ہوتا ۔ وہ ادب جو صدیوں بعد بھی آج کی کہانی لگے اور ہر دور میں پڑھنے والے کو اپنا فسانہ محسوس ہو"۔
    میں نے لکھاری اور قاری کے تعلق کوسامنے رکھتے ہوئے دس سے زائد بلاگ لکھے ہیں۔ جو درج ذیل لنک پر دیکھے جا سکتے ہیں اور آپ کے موقف کی تائید کرتے ہیں۔
    https://goo.gl/FYmDRw

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  6. حسن رضا چنگیزی says:

    اچھی اور مفید تحریر ہے۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  7. غزل اسد says:

    بہت خوب..

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *