آپ لیگی ہیں یا انصافی؟

2

میں اپنے دوست کے ہمراہ برشلونہ کے ہوائی اڈے سے باہر نکلا تو ہماری پہلی تلاش ایسا ہوٹل تھا کہ جہاں قیام کے ساتھ طعام کا بھی بندوبست ہو۔ اس بابت دریافت کرنے کے لیے ایک کاؤنٹر کا رخ کیا تو راستے میں ایک پاکستانی نوجوان نظر آیا۔ غیر ملک اور اجنبی ماحول میں اپنے جیسے بندے کو دیکھ کر خوشی اور اطمینان کا اندازہ آپ بخوبی لگا ہی سکتے ہیں۔ ہم نے سلام دعا اور مختصر تعارف کے بعد ہوٹل کی بارے میں پوچھا مگر نوجوان نے جواب دینے کے بجائے ہم سے ہی سوال کر ڈالا۔

پہلے یہ بتائیں کہ آپ نواز لیگ کے سپورٹر ہیں یا پی ٹی آئی کے؟ میں یا میرا دوست اس سوال کا کیا جواب دیتے، حیرت سے ایک دوسرے کی شکل ہی دیکھتے رہے، پھر مسکرا کر کہا کہ بھئی ہم نہیں بتا سکتے کہ ہم کس کے سپورٹر ہیں اور ویسے بھی اس سے آپ کا کیا لینا دینا؟ اس پر نوجوان نے جو جواب دیا وہ پہلے سے بھی زیادہ حیران کن تھا، اس نے نہ صرف ہمیں نواز شریف کا ساتھی قرار دے ڈالا بلکہ ہوٹل سے متعلق ہمارے رہنمائی کرنے سے بھی انکار کردیا۔

یہ واقعہ میرے ایک عزیز نے بیان کیا جو گزشتہ دنوں یورپ کے سفر سے واپس کراچی پہنچے تھے۔ اس واقعہ سے آپ کئی طرح کے پہلو نکال سکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ عمران خان کی انقلابی تحریک کا چرچا یورپ تک ہو رہا ہے اور وہاں موجود پاکستانی بھی اس سے بہت متاثر ہیں۔ لیکن دوسری طرف یہ بات قابل تشویش ہے کہ تحریک انصاف کے حامیوں کا رویہ انتہاپسندی کو چھو رہا ہے کہ جو خود کو تحریک انصاف یا عمران خان کا حامی نہ کہے تو وہ اسے ظالم حکمرانوں کا حامی قرار دے کر ایسی کی تیسی کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

اگر آپ بھی انصافیوں کے اس رویے سے مستفید ہونا چاہیں تو کہیں جانے کی قعطاً ضرورت نہیں۔ فیس بک یا ٹویٹر کا رخ کیجیے کہ جہاں عمران خان یا پی ٹی آئی کی اصلاح کی کوشش یا غلطیوں کی نشاندہی پر جواباً ذاتی تنقید کی جاتی ہے اور ن لیگ کا سپورٹر قرار دے دیا جاتا ہے۔ ایسا رویہ دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک میں صرف دو قسم  کے لوگ رہتے ہیں، اول وہ جو عمران خان پر ایمان لائے اور دوئم وہ جو پاکستان مسلم لیگ (ن) کا حصہ ہیں۔ یہاں ایسے شخص کا تصور ہی نہیں ہے کہ جو اس سیاسی کھیل سے الگ رہے یا غیر جانبدار رہتے ہوئے ان سیاسی جماعتوں کی تعریف یا ان پر تنقید کرے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. راحت حسین کہتے ہیں

    جی ایسا ہی کچھ شکوہ ہمیں بھی ہے۔ عمران خان کی صورت میں کچھ امید سی نظر تو آ رہی ہے لیکن سپورٹرز (جن میں کثیر تعداد پڑھے لکھے نوجوانوں کی ہے) کے رویے سے شدید مایوسی کی کیفیت میں طاری ہو جاتی ہے۔ اگر انقلاب نے اسی “شدت” سے آنا ہے تو چوہا لنڈورا ہی بھلا۔

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب
  2. افتخار اجمل بھوپال کہتے ہیں

    حضور . میں کسی کا سپورٹر نہیں ہوں لیکن عمران کی غلطی بیان کرنے کی پاداش میں ذاتی تنقید ہی نہیں گالیاں بھی سُن چکا ہوں . میں تو یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ اگر تعلیم نے یہی کچھ سکھانا ہے تو بے تعلیم ہی اچھے . میری سمجھ میں یہ بھی نہیں آتا کہ عمران خان سے توقعات وابستہ کیوں کی گئیں اور کیا کی گئیں ہیں ؟ یہ شخص جب کرکٹ ٹیم کا کپتان تھا تو بھی آمرانہ من مانے فیصلے کرتا تھا . اس کے دو فیصلوں نے جاوید میانداد کو دنیا کا بہترین بیٹسمین نہیں بننے دیا . یہ دونوں فیصلے اس نے اپنی واہ واہ قائم رکھنے کیلئے کئے تھے جس پر بھارت کی ٹیم کا کپتان سُنیل گواسکر بھی ششدر رہ گیا تھا .
    آج تک عمران خان نے کونسا تیر مارا ہے سوائے الزامات کے جو اکثر بے بنیاد اور لغو ہوتے ہیں . ایک ہسپتال بنایا ہے لوگوں کے چندے سے . پاکستان میں کئی ہسپتال مختلف خاندانوں نے بنائے ہیں اور کسی سے چندہ نہیں مانگا جن میں سے کچھ یہ ہیں . سیالکوٹ میں بیگم سردار ٹرسٹ ہسپتال . لاہور میں منشی خان ہسپتال . ایک اسلام آباد میں گولڑا کے قریب ہے یہ سلطانہ فاؤنڈیشن نے بنایا تھا . اتفاق ہسپتال . شریف سٹی ہسپتال . کچھ اور بھی ہیں جن کے نام اس وقت میرے ذہن میں نہیں آ رہے

    اس تبصرے کا جواب دیںجواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.